جج اب ’فیس سیونگ‘ چاہتے ہیں: نواز شریف


اسلام آباد (24 نیوز) سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ججز اب فیس سیونگ چاہتے ہیں۔ نیب ٹیم کے لندن آنے جانے میں کتنا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔ وہاں کن سے ملاقات ہوتی ہے اور شیخ رشید کے کن بندوں سے کھانے کھاتی ہے، سب پتہ ہے۔ اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے دیا جائے۔

پنجاب ہاؤس میں ہائی کورٹ رپورٹرز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرعظم نوازشریف نیب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ضمنی ریفرنس لائے جارہے ہیں ان کا مقصد کیا ہے؟ جب معاملہ ختم ہونے کی طرف جارہا ہے تو اسے کیوں لٹکایا جا رہا ہے؟ جب ثبو ت نہیں ملتا تو معاملہ کو ختم کردینا چاہیئے لیکن ایک ریفرنس کے بعد دوسرا ریفرنس دائر کر دیا جاتا ہے۔ آئے دن ریفرنس میرے اور شہباز شریف کے خلاف دائر کیے جا رہے ہیں۔ نیب کو ہدایات دی جارہی ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوام نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ابھی تک قبول نہیں کیا۔ پوری قوم اس فیصلہ کو مسترد کر چکی ہے۔ مجھے پہلے دن سے پتہ تھا کہ اس کیس میں کچھ نہیں ہے اور میں نے کوئی کرپشن، سرکاری عہدہ کا ناجائز استعمال یا اپنے منصب کا غلط استعمال نہیں کیا ہے۔

قصور واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ زینب کا واقعہ افسوسناک ہے، اس پر سیاست نہ کی جائے۔ ملتان اور ڈیرہ اسمعیل خان میں بھی واقعات سامنے آئے، اس پر کسی نے ہمدردی نہیں کی ہے۔ زینب کے واقعہ پر سیاست کرنے والوں کو مردان اور ڈی جی خان کے واقعات پر بھی نظر دوڑانی چاہئے۔