پانامہ لیکس میں شامل پاکستانیوں کیخلاف درخواست پر وفاق ، نیب کو نوٹسز

پانامہ لیکس میں شامل پاکستانیوں کیخلاف درخواست پر وفاق ، نیب کو نوٹسز


اسلام آباد(24 نیوز)سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس میں شامل تمام پاکستانیوں کیخلاف درخواست پر وفاق اور نیب کو نوٹسز جاری کر دیئے ، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ریاست کے ہر ادارے میں بدعنوانی سرائیت کر چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پانامہ لیکس میں شامل 436 پاکستانیوں کیخلاف کاروائی کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں ، سماعت کا آغاز ہوا تو طارق اسد ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ کرپشن کر کے پانامہ میں کمپنیاں بنانے والوں کے خلاف بلا تفریق کاررروائی ہونی چاہئے ، ٹیکس بچانے کے لیے یہ کمپنیاں بنائی جاتی ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے میں پانامہ کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل تھا ،  ہم اس کیس کا فیصلہ کریں گے ، آمدن سے زائد اثاثوں کے مالکان کے خلاف کارروائی ہی اصل مقدمہ ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ اصل میں یہ کام نیب کے کرنے کا تھا ، عدالت کا کہنا تھا ریاست کے ہر ادارے میں کرپشن پائی جاتی ہے ، ان کا کہنا تھا کرپشن کی روک تھام کیلئے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔

عدالت نے نیب اور وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔