امریکی سینیٹرز کشمیریوں کے ہم آواز بن گئے

امریکی سینیٹرز کشمیریوں کے ہم آواز بن گئے


واشنگٹن(24 نیوز) امریکی سینیٹرز کشمیریوں کے ہم آواز بن گئے۔ امریکا نےمقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کردیا،پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ، کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی میں امریکی نائب صدر کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالتے رہیں گے،پاکستان اور بھارت کو اعتماد کی فضا بحال کرنا ہوگی، آئی ایم ایف پلان سے پاکستانی معیشت بہتر ہونے کی امید ہے۔

بریڈ شرمین کی سربراہی میں امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اراکین کانگریس نے امریکی وزیر خارجہ کی نائب ایلس ویلز سے سخت سوالات کیے۔

ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ کشمیرکی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے،5 اگست سے 80 لاکھ کشمیری روز مرہ کی سہولیات سے محروم ہیں،انٹرنیٹ اورٹیلی فون سروس کھولنے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالتے رہیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بھارت سے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

بریڈ شرمین نے سوال کیا کہ کیامقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے؟ جس  پر ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکا اس حوالے سے کوئی پوزیشن نہیں لے رہا ،ان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں سفارت کاروں کو لے جانے کیلئے بھارتی حکومت سے بات کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے لاک ڈاؤن جاری ہے جس کے باعث وادی میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، وادی میں بچوں کے دودھ، ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer