مردان میں شہری صاف پانی کو ترس گئے

مردان میں شہری صاف پانی کو ترس گئے


مردان(24نیوز)شہری صاف پانی کو ترس گئے،شہر ی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق مردان میں شہری صاف پانی پینے کو ترس گئے، کروڑوں روپے کی لاگت سے لگا ئے گئے 75 یونین کونسلز میں واٹر فلٹریشن پلانٹس ناکارہ ہو کر بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے شہر ی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔  پانی زندگی ہے مگر خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے شہر مردان میں پینے کے صاف پانی کا مسلہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں 75 یونین کونسلز اور پبلک مقامات پر لگائے گئے واٹر فلٹریشن پلانٹس ناکارہ ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے شہری مضر صحت اور آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔

شہریوں کی سہولت کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹس تو بنائے گئے تھے مگر دیکھ بھال کے لئے کسی ادارے کو حوالہ نہیں کئے گئے ،ضلعی انتظامیہ کے مطابق ناکارہ فلٹریشن پلانٹس کو فعال بنایا جائے گا اور مزید پلانٹس بھی لگائے جائیں گے۔ مضر صحت پانی کے استعمال سے مردان میں ہیپاٹائیٹس جیسے موذی مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ 

ڈاکٹروں کے مطابق اسپتال میں زیادہ تر مضر صحت پانی سے متاثرہ مریض آتے ہیں جو پیٹ اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی حکومت کی بنیادی زمہ داری ہے تاہم اس پانی کے ضیاع کو روکنا ہم سب کا کام ہے ۔