وزیر خارجہ نے بھی امریکی مؤقف مسترد کر دیا


24نیوز : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ سیکریٹری خارجہ کی گفتگو کے حوالے سے امریکی مؤقف کو مسترد کر دیا۔

وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو خارجہ امور کے حوالے سے پاکستان کو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ مؤثر اور ٹھوس انداز سے پاکستان کی ترجمانی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ 7 برس بعد وزارت خارجہ میں آیا ہوں، وقت بہت بدل گیا ہے، جو دنیا چھوڑ کر گیا تھا آج کی دنیا اس سے خاصی بدل چکی ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا استحکام اور امن ہماری ضرورت ہے اور خطے کا امن بھی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو معاشی ترقی بھی درکار ہے اور پاکستان کی سیاسی جہتیں مشرق کی جانب جا رہی ہیں، پاکستان اب مغرب کا محبوب نہیں رہا۔

 بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں تعطل تھا اور ہے، لیکن ہمیں دیکھنا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بھی اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ اگر ایک قدم بڑھو گے تو ہم دو قدم آگے بڑھیں گے لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن اور استحکام ہمارے امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اگر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں کہ تو پھر ہمیں افغانستان میں ان کی ضروریات کو سمجھنا ہو گا اور ہمیں امریکہ کو اپنے تقاضے بھی سمجھانا ہوں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایران ہمارا پڑوسی ہے اور امریکا اور ایران کی حالیہ کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں، ایران کے وزیر خارجہ نے پیغام دیا کہ وہ پاکستان تشریف لانا چاہتے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ 30 اور 31 اگست کو پاکستان آنا چاہتے ہیں، انہیں پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فون کال کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے وضاحت کی کہ امریکی محکمہ خارجہ نے ٹیلی فون کال پر جو مؤقف اختیار کیا وہ حقیقت کے برعکس ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم اور امریکی سیکریٹری خارجہ سے بہت اچھی گفتگو ہوئی، انہوں نے وزیراعظم کو مبارکباد پیش کی۔

 

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito