مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کی ضمانت منظور



لاہور(24 نیوز)5ماہ 24دن بعد رانا ثناء اللہ کی سنی گئی، لاہور ہائی کورٹ کا منشیات کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم ، لاہور ہائی کورٹ کا دس دس لاکھ کے 2مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری مشتاق احمد نے فیصلہ سنا دیا۔ رانا ثناء اللہ کی اہلیہ عدالتی فیصلے سے خوش ،کہا شوہر کی قید کے 6ماہ کا حساب کون دے گا۔

انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے رانا ثناءاللہ کو 2 جولائی 2019 کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا اور اے این ایف نے دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناء کی گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔ رانا ثناء اللہ کے خلاف کیس خصوصی عدالت میں چل رہا ہے اور وہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے 2 اکتوبر کو ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔ رانا ثناء اللہ کی جانب سے دائر درخواست میں اے این ایف کے تفتیشی افسر کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ حکومت پر سخت تنقید کرتا رہا ہوں، حکومت کیخلاف تنقید کرنے پر منشیات سمگلنگ کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، وقوعہ کی ایف آئی آر تاخیر سے درج کی گئی جو مقدمہ کومشکوک ثابت کرتی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہےکہ ایف آئی آر میں 21 کلوگرام ہیروئن اسمگلنگ کا لکھا گیا، بعد میں اس کا وزن 15 کلو گرام ظاہر کیا گیا، گرفتاری سے قبل گرفتاری کے خدشے کا اظہار کیا تھا، بے بنیاد مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا۔

Azhar Thiraj

Senior Content Writer