بیٹی کو کٹہرے میں دیکھ کرنواز شریف جذباتی ہو گئے


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پیغام پہنچانے والے ماتحت ادارے کے افسر کو ملکی مفاد میں برطرف نہیں کیا، استعفیٰ کے پیغام پر ادارے کے سربراہ کو برطرف کر سکتا تھا لیکن ملکی مفاد میں برطرف نہیں کیا اور درگزر سے کام لیا۔
احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران ایک صحافی کے سوال پر کہا کہ میں نے تحمل، درگزر، بردباری اور ہمت کا مظاہرہ کیا، ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے، عدالت کے سامنے معاملہ آیا تو میں نے بتا دیا، حقائق تھے جو منظر عام پر آنا چاہیے تھے، ان مسائل نے 70سال سے ہماری جان نہیں چھوڑی۔


یاد رہے کہ سابق وزیراعظم کا گزشتہ روز احتساب عدالت میں اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک خفیہ ادارے کے افسر کا پیغام پہنچایا گیا کہ مستعفی ہوجاو¿ یا طویل رخصت پر چلے جاو، مجھے اس کا دکھ ہوا کہ ماتحت ادارے کا ملازم مجھ تک یہ پیغام پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگر سر جھکاکے نوکری نہیں کی تو مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفا کیوں لیا؟' کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفیٰ لینا بھی اس بردباری اور درگزر کا نتیجہ ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ گزشتہ روز میڈیا نے میرا سارا بیان دکھایا، سب کو کھڑا ہونا پڑے گا اور سب کھڑے ہوں گے تو سب ممکن ہوگا، میڈیا کا حق ہے کہ وہ یہ سب دکھائے، میڈیا اپنے ہاتھ پاو ٹھنڈے نہ پڑنے دے۔

یہ خبر بھی پڑھیں:ایون فیلڈ ریفرنس:میرا بھی وہی موقف ہے جو نواز شریف کا تھا:مریم نواز
واضح رہے احتساب عدالت میں سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نے بیٹی مریم نواز کو باپ کے سامنے کٹہرے میں بلائے جانے پر جذباتی ہوگئے اور کہا کہ جس نے بھی یہ روایت قائم کی ہے اس کو مہنگی پڑے گی،اس روش کا جونتیجہ نکلا سب کو بھگتنا پڑے گا،صحافی کے سوال پر جواب دیا کہ جنہوں نے میری نااہلی کا فیصلہ کیا ان سے پوچھیں کیا چاہتے ہیں؟