عمران خان کا انٹرویو اور وضاحتیں

عمران خان کا انٹرویو اور وضاحتیں


اسلام آباد( 24نیوز ) وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب کا دورہ کرکے واپس آگئے ہیں، سعودی عرب کے دورے کے دوران ان کی ٹیم بھی ساتھ تھی جن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،وزیر خزانہ اسد عمر و دیگر شامل تھے۔
وزیر اعظم نے اپنے دورے کے دوران بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کیا،انہوں نے خطاب کے بعد سعودی بادشاہ شاہ سلمان سے بھی ملاقات کی ،اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فنانس معاہدہ بھی طے پایا جس کے تحت سعودی عرب پاکستان اربوں ڈالر امداد کے ساتھ ساتھ ادھار تیل بھی دے گا۔
عالمی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کو فلاحی ریاست بنانے کا آئیڈیا مدینہ منورہ سے لیا،50لاکھ گھر بنانے میں تمام رکاوٹیں دور کرینگے،دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے بات کررہے ہیں،مشکل حالات سے نکلنے میں کچھ وقت لگے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں ماضی کی حکومت سے دو بڑے خسارے ملے ہیں،کرپشن کے خاتمے کیلئے چین سے مدد لینگے،سی پیک پاکستان کیلئے بڑے مواقع پیدا کرے گا،کوشش ہے کہ کاروبار کے مواقع پیدا کئے جائیں،آنیوالے تین سے چھ ماہ پاکستان کیلئے سخت ہیں، منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے اقدامات کررہے ہیں،ہمیں حکومت میں آئے ساٹھ دن ہوئے ہیں،سمندر پار پاکستانی ملک کیلئے طاقت ہیں،آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دے رہے ہیں،ہم نے ملک میں جو بھی اصلاحات کی ہیں ان کا اثر آنیوالے دنوں میں نظر آئے گا۔


دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ایک غیر ملکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی صحافی جمال خاشوگی کی ہلاکت پر اپنے تحفظات کے باوجود میں یہ کانفرنس نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ ہمیں سعودی قرضوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک کی معیشت کو سنبھالا دیا جا سکے،عمران خان نے یہ انٹرویو مڈل ایسٹ آئی نامی ویب سائٹ کو دیا جس پر گذشتہ روز سے پاکستانی سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ ہو رہا ہے۔
اس مباحثے میں ٹوئسٹ تب آیا جب وزیراعظم کے معاونِ خصوصی اور دستِ راست نعیم الحق نے ٹوئٹر پر صحافی کامران خان کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انٹرویو سے صاف انکار کر دیا۔وزیراعظم نے کوئی انٹرویو نہیں دیا۔ غیرملکیوں کا ایک نمائندہ وفد جو پاکستان کے دورے پر تھا وہ وزیراعظم سے ملا جن کو وزیراعظم نے حالات و واقعات سے آگاہ کیا جن کا ملک کو سامنا ہے۔ آخر آپ جیسے ایک سینیئر صحافی نے ہمارا موقف کیوں نہیں لیا؟


ان کے ٹوئیٹ کے بعد مزید ٹوئیٹ بھی سامنے آئے،عرب صحافی بھی اس پر اڑ گئیں اور انہوں نے انٹرویو کے ثبوت بھی پیش کردئیے۔


یاد رہے حکومتی ٹیم کی طرف سے پہلے بھی سفارتی معاملات پر کنفیوژن پائی جاتی ہے،پہلے فرانسیسی صدر کے ٹیلی فون پر غلط اطلاعات سامنے آئیں،ملائیشیا کے وزیر اعظم کے دورہ اور ٹیلی فون کے حوالے سے بھی غلط پریس ریلیز جاری کی گئی۔