’’لوٹا ازم جمہوریت کے لیے ٹھیک نہیں ہے‘‘


اسلام آباد (24نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اداروں کے ٹکراؤ نہ ملک کا فائدہ ہے نہ عوام کا ہے۔ یہ ٹکراؤ کی سیاست ن لیگ کی دی ہوئی ہے۔ ہمیں ملک کے مفاد میں سوچنا چاہیے۔

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کے لیے کوئی دروازے کھلے نہیں ہیں۔ پارٹی چھوڑ کر جانے والے اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے بہت سے لوگ پارٹی چھوڑ کر گئے۔

بجٹ کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ حکومت بجٹ میں کوئی نئی سکیم نہیں دے سکتی۔ ن لیگ پورا بجٹ پیش کرنا چاہتی ہے۔ بجٹ پیش کرنا اگلی حکومت کا حق ہے۔ حکومت ایک دو روز میں بجٹ پیش کرے گی۔ چاہتے ہیں حکومت تین یا چار ماہ کا بجٹ پیش کرے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو بھاگتے ہوئے پورے لاہور نے دیکھا، مریم نواز 

پارٹی چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو آگے لے کر جا رہا ہوں۔ میری کوشش ہے کہ پیپلز پارٹی زیادہ سے زیادہ سیٹیں نکالے۔ پارٹی منشور کا بہت جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ ناراض ارکان کا مسئلہ پارٹی کا اندرونی مسئلہ ہے۔ ہم سب ایک خاندان کی طرح ہیں اور خاندانی مسئلہ سمجھ کے حل کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ لوٹا ازم جمہوریت کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ عمران خان اور نواز شریف کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے۔ میاں صاحب کی سیاست گندی ہے۔ اس کے بارے میں میں کچھ نہیں سننا چاہتا۔ گالم گلوچ کی سیاست چل سکتی ہے یا ہم ایشوز پر سیاست کر سکتے ہیں؟ میں مسائل حل کرنے کے لیے سیاست کرنا چاہتا ہوں۔ میں ہر فرعون کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہوں۔

پڑھنا نہ بھولیں: پیپلزپارٹی کے رہنماسعیدغنی شہبازشریف پربرس پڑے

نئے صوبہ کے حوالے سے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے عوام کے مفاد کی بات نہیں ہو رہی۔ اقتدار میں آ کر نیب قوانین کو مزید مضبوط کریں گے۔ کسی قانون کو اپنے مفاد کے لیے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

بے نظیر بھٹو شہید کے صاحبزادے کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو بڑا کرنے کے لیے سیاست نہیں اپنائی۔ پاکستان کی جو پارلیمنٹری جوائنٹ نیشنل سکیورٹی کمیٹی ہے یہ میری جد و جہد کا نتیجہ ہے۔ اس ملک کی نیشنل سکیورٹی پالیسی کی جو ابھی سویلئن اور پاریلمنٹری اوورسائٹ ہو رہی ہے، یہ سب پیپلز پارٹی کی کوششوں کا ثمر ہے۔