وفاقی حکومت آٹا کے تھیلے تبدیل کرانے میں ناکام

وفاقی حکومت آٹا کے تھیلے تبدیل کرانے میں ناکام


اسلام آباد(24نیوز)وفاقی حکومت آٹے کے تھیلے  تبدیل کرانے کے قانون پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ہوگئی ۔غریب عوام کا 34 ارب روپے کا آٹا مٹی میں مل رہا ہے۔ 20 کلو آٹے کا تھیلہ جب فیکٹری سے گھر تک پہنچتا ہے تو 19 کلو کا ہوچکا ہوتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں آٹے کی خریدو فروخت کے لیے سالانہ 60 لاکھ تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں پولی پیپلین بیگز میں تبدیل کرکے 34 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں اور ماحول کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ تھیلے ری سائیکل کیے جاسکتے ہیں۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق آٹے کے تھیلے کو تبدیل کرنا مشکل ہے کیوں کہ پولی پیپلین بیگز قدرے مہنگے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی ریسرچ اینڈ کنٹرول اتھارٹی نے آٹے کو تھیلے کو تبدیل کرانے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے۔

ذرائع کے مطابق  دنیا بھر میں مضر صحت اور ماحول دشمن شاپنگ بیگز کے استعمال پر پابندی لگائی جا رہی ہےمگر پاکستان میں آٹے کی خریدو و فروخت کے لیے جو تھیلے استعمال کیے جارہے ہیں وہ غریب عوام کی جیب پر بھاری پڑ رہے ہیں