جے آئی ٹی رپورٹ ناقابل قبول ثبوت


اسلام آباد( 24نیوز )ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کیس کی سماعت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے حتمی دلائل میں جے آئی ٹی رپورٹ کو ناقابل قبول ثبوت قرار دے دیا۔

شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے پانچویں روز حتمی دلائل دیئے۔ خواجہ حارث نے حتمی دلائل میں کہا کہ ان کے موکل لندن فلیٹس کے بینیفیشل اونر ہیں اور نہ ہی ان کا ان سےکوئی تعلق ہے۔
سماعت شروع ہوئی تو جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ ملزمان میں سے کوئی بھی نظر نہیں آرہا۔جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ نواز شریف اور مریم نواز بیرون ملک ہیں، اس حوالے سے درخواست جمع کرانی ہے۔تاہم تھوڑی ہی دیر میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔ خواجہ حارث نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی رپورٹ ناقابل قبول شواہد ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ گواہ محمد رشید نے کچھ دستاویزات نیب کو دی تھی انہیں دیکھتے ہیں، محمد رشید نے التوفیق سے متعلق محمد رضا خان بنگش کو کچھ نوٹسز کی سروس دینی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:    نواز شریف،مریم نواز کو 3 روز کا استثنیٰ مل گیا
محمد رشید کہتے ہیں کوئن بینج کے فیصلے تعمیل شہباز شریف عباس شریف میاں شریف کو کرائی، یہاں پر بھی نواز شریف کا زکر نہیں، شکیل انجم ناگرہ نے سپریم کورٹ سے دستاویزات حاصل کیں، گواہ عبدالوحید خان نے حسن نواز کے انٹرویوز سے متعلق بیان دیا، نواز شریف کے بیانات سے متعلق گواہ نے بیان دیا، دیکھنا یے استغاثہ نے فلیٹس سے متعلق کیا بیان دیا، رابرٹ ریڈلے نے ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق بیان دیا،چار شرائط سے متعلق کس گواہ نے بیان دیا، اختر راجہ کا نام سونپا گیا تھا مگر انہوں نے کچھ ملاقات کا اہتمام کیا،

دوران سماعت بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ احتساب عدالت میں پیش کردی گئی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق ہارٹ اٹیک کے بعد سے کلثوم نواز کے متعدد اعضائ نے کام کرنا چھوڑ دیا جبکہ گردے بھی کام نہیں کررہے ہیں۔ لندن میں زیرعلاج ہیں، گذشتہ تین روز کے دوران کلثوم نواز کی حالت میں بہتری ا?ئی، انہیں خوراک دی جا رہی ہے جبکہ ساتھ ساتھ ان کی تھراپی بھی چل رہی ہے۔
خواجہ حارث نے استدعا کی کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سات دن کا حاضری سے استثنیٰ دیا جائے عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی سات کے بجائے تین دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی، فاضل جج نے خواجہ حارث کو کہا کہ اگر آپ کی طبیعت ناساز ہے تو کل امجد پرویز دلائل دے دیں۔ خواجہ حارث کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی کل بھی خواجہ حارث حتمی دلائل جاری رکھیں گے۔