بطور چیف جسٹس مطلق العنان نہیں :جسٹس ثاقب نثار


لاہور ( 24نیوز ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ وہ بطور چیف جسٹس مطلق العنان نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس نے گزشتہ روز ان کی گاڑی روکنے والی خاتون کے کیس کی سماعت کی اور اس دوران جسٹس ثاقب نثار نے شکایات کنندہ خاتون کو کمرہ عدالت میں بلا لیا اور لوگوں کی شکایات سے متعلق موقع پر ہی ہدایات جاری کیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ میں بطور چیف جسٹسں مطلق العنان نہیں ہوں، مجھے بھی قانون کے مطابق چلنا ہے،جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ براہ راست ہرکیس میں مداخلت نہیں کرسکتا،دوسری جانب چیف جسٹس نے انسانی حقوق اور اقلیتوں کی شکایات کے لیے سیل بنانے کا بھی حکم دیا۔

یہ بھی ضرور پڑھیں:کیا نواز شریف اب جیل میں بیٹھ کر پارٹی چلائیں گے؟
چیف جسٹس نے کہا کہ رجسٹری میں سیل بنا رہے ہیں، لوگ سڑک پر بیٹھنے کی بجائےسیل میں شکایات بھیجیں۔ چیف جسٹس نے گزشتہ روز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کل جب شکایت سننے کےلیے گاڑی سے اترا توسیکیورٹی نے منع کیا، ان کے منع کرنے پر مجھے بھی اس طرح رکنا ٹھیک نہیں لگا۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں