مریم نواز کا جے آئی ٹی ،ریڈلے رپورٹ ماننے سے انکار


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس کے سلسلے میں دوسرے روز بھی احتساب عدالت پیش ہوگئیں ،انہوں نے مسلسل دوسرے روز بیان قلمبند کرادیا ہے،انہوں نے اس دوران کہا ہے کہ رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ حقائق کے منافی ہے جس پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں جب کہ نامزد تینوں ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود ہیں، مریم نواز نے گزشتہ روز عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات میں سے 46 کے جواب دیے اور آج دوسرے روز بیان قلمبند کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی اور سپریم کورٹ کی طرف سے دیے گئے سوالات میں ٹرسٹ کا سوال نہیں تھا۔
مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنے طور پر ہی اس معاملے میں کارروائی آگے بڑھائی جس نے بدنیتی کی بنیاد پر نام نہاد آئی ٹی ماہر سے رائے مانگی، مریم نواز نے کہا کہ آئی ٹی ماہر کو انگیج کرنا اور دستاویزات دینے کا عمل انتہائی مشکوک ہے، رابرٹ ریڈلے کو جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاکے کزن اختر راجا کے ذریعے ہائر کیا گیا، یہ نہیں بتایا کہ جے آئی ٹی نے خود یا بذریعہ دفتر خارجہ ریڈلے کی خدمات کیوں نہ لیں۔

یہ بھی پڑھیں: بیٹی کو کٹہرے میں دیکھ کرنواز شریف جذباتی ہو گئے

مریم نواز نے کہا کہ درحقیقت بذریعہ اختر راجا ریڈلے کی خدمات لینے کا مقصد انتہائی جعلی رپورٹ لینا تھا اور ایسی رپورٹ حاصل کی گئی جو جے آئی ٹی کے مذموم مقاصد پورے کرتی تھی جب کہ رپورٹ حاصل کرنے کا مقصد مجھے اور میرے شوہر کو اس کیس میں ملوث کرنا تھا، یہ رپورٹ اسکین کاپی کی بنیاد پر تیار کی گئی جو سائنسی فرانزک اصولوں سے مطابقت بھی نہیں رکھتی اور قانون کے مطابق قابل قبول شہادت بھی نہیں جب کہ رپورٹ میں دی گئی رائے نہ تو مکمل ہے اور نہ ہی زیادہ مضبوط۔
مریم نواز نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کرنے والے 4 افراد میں سے 3 جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے جنہوں نے اس کی تصدیق کی جب کہ جرمی فری مین نے بھی ایک خط کے ذریعے ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کی، رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ حقائق کے منافی ہے جس پر انحصار نہیں کیا جاسکتا، رابرٹ ریڈلے نے رپورٹ انتہائی عجلت میں بنائی جو یکطرفہ ہونے کے ساتھ قابل بھروسہ بھی نہیں جب کہ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ اسے گواہی دینے میں دلچسپی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ یہ رپورٹ جے آئی ٹی کے پاس تھی، مجھ سے اس رپورٹ سے متعلق سوالات نہیں کیے گئے، ٹرسٹ ڈیڈ ریڈلے کی لیبارٹری اور جے آئی ٹی تک پہنچانے والے کا بھی سیزرمینیو نہیں ہے، رابرٹ ریڈلے نے تسلیم کیا کہ ویک اینڈ پر یہ رپورٹ تیار کی گئی اور یہ بھی تسلیم کیا کہ 'ونڈو ویسٹا بیٹا ون' کمرشل لانچ سے پہلے موجود تھی جسے اس نے ڈاون لوڈ کر کے استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران نے پارلیمنٹ میں آکر "تھوکے کو چاٹا" ہے:نواز
ریفرنس میں نامزد ملزمہ نے کہا کہ حسین نواز کے انٹرویو سے متعلق سوال مجھ سے متعلق نہیں، یہ نہ تو قانون شہادت کے مطابق اور ناقابل قبول شہادت ہے، رابرٹ ریڈلے فونٹ کی شناخت کا ماہر نہیں تھا اور اس کی سی وی تصدیق کرتی ہے کہ اسے کمپیوٹر سائنسز میں مہارت نہیں، بین الاقوامی معیار کے تحت بتانے کا پابند تھا کہ کن معلومات کی بنا پر رائے قائم کی لیکن اس نے بین الاقوامی معیار کی پاسداری نہیں کی اور اس نے کسی کتاب، آرٹیکل یا ویب سائٹ کا حوالہ بھی نہیں دیا، یہ حقیقت ہے میرے دادا میاں شریف پورے خاندان کی کفالت کرتے تھے جو خاندان کے ارکان کے اخراجات اٹھاتے اور سب کو ماہانہ جیب خرچ بھی دیتے۔
واضح رہے نواز شریف، مریم نواز ،کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کیخلاف گزشتہ کئی ماہ سے کرپشن کیسز کی سماعت ہورہی ہے ، ایون فیلڈ ریفرنس پر آئندہ ماہ فیصلہ متوقع ہے۔