تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان ڈاکٹر شکیل امریکہ کو دے دے:مشرف


واشنگٹن( 24نیوز )سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات معمول پر لانے کیلئے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کردینا چاہیے، پاکستان کے امریکہ سے کمزور تعلقات کا بھارت فائدہ اٹھا رہا ہے اور وہ اس کے قریب ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں اس وقت ملک کا صدر ہو تا تو ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کرکے امریکہ کے حوالے کرنے پر رضامند ہو جاتا،بشرطیکہ ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے تحت، امریکہ کے ساتھ کوئی سمجھوتا طے پا جاتا۔
پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ایک وفادار ساتھی کی حیثیت سے امریکہ کا ساتھ دیا ہے، لیکن امریکہ نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ اسی وقت بڑھایا جب اسے پاکستان کی ضرورت پیش آئی، امریکہ میں موجودہ انتظامیہ کے دور میں پاکستان ۔ امریکہ تعلقات خراب ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ دونوں ملک اختلافات دور کرنے کیلئے مذاکرات کریں، پرویز مشرف نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی وجہ افغانستان کی صورت حال ہے اور امریکہ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان امریکہ کو افغانستان کے حوالے سے ڈبل کراس کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان پر نیا الزام لگا دیا
یاد رہے سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں افغانستان میں حملہ آور ہونے کیلئے امریکہ کو اپنے ہوائی اڈے دے دیے تھے،سولہ سال سے امریکہ افغانستان میں پنجے گاڑے ہوئے ہے۔
پاکستان کو بھی امریکہ سے شکایات ہیں اور امریکہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے، امریکہ کا مکمل جھکاﺅ بھارت کی طرف ہوگیا ہے اور اس بات سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے“۔ انہوں نے کہا کہ ”بھارت افغانستان کے ذریعے بلوچستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جانگ سے ملاقات منسوخ کرنے کا عندیہ دیدیا
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان نے جوہری مواد شمالی کوریا اور ایران کو منتقل کیا تھا جو انہیں نہیں کرنا چاہئے تھا۔ تاہم شمالی کوریا کا جوہری پروگرام سو فیصد پاکستانی مدد پر انحصار نہیں کرتا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے پاکستان پر تنقید کی جاتی ہے جبکہ بھارت کے خلاف ایسا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ ،افغان خفیہ ایجنسی جانتی ہے کہ ملا فضل اللہ افغانستان میں ہے اور وہ یہاں سے پاکستان پر حملے کررہا رہے لیکن اس کو نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ انتظامیہ میرے خلاف ہے اس لیے میں عدالتوں کا سامنا کرنے نہیں جارہا کیونکہ مجھے انصاف ملنے کی امید نہیں ہے،پولیس ،عدالتیں اور سب سابق وزیر اعظم نواز شریف کے زیر سایہ ہیں۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ، پاکستان کے بھارت اور چین سے تعلقات کے حوالے سے بھی بات کی ، امریکہ کے سابق صدرور اور ڈونلڈ ٹرمپ سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر بش امریکہ کے بہترین صدر تھے میں یہ اس لیے بھی کہہ رہا ہوں کہ وہ میرے دوست بھی تھے۔