پاکستان میں کاریں مہنگی ہونے کی وجہ؟

پاکستان میں کاریں مہنگی ہونے کی وجہ؟


لاہور(24نیوز)پاکستان میں ان لوگوں کی کمی نہیں ہے جو مہنگی سے مہنگی گاڑیاں خریدنے کے شوقین ہیں،یہاں تو کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو ہر سال اپنی گاڑی تبدیل کرتے ہیں۔ گاڑی ضرورت بھی ہے اور شوق بھی اور نئے ماڈل کی گاڑی کِسے پسند نہیں؟ پاکستانی معاشرے میں اچھی گاڑی ایک سٹیٹس سمبل بھی بن چکی ہے۔

پاکستان میں جتنی گاڑیوں کی مانگ ہے اسی مناسبت سے مہنگی بھی ہیں لیکن شوق کا کوئی مول نہیں۔ پاک سوزوکی نے کئی دہائیوں سے پاکستان میں بکنے والی اپنی مہران کار کی جگہ سوزوکی آلٹو کو متعارف کروانے کا اعلان کیا جس کے ایک ماڈل کی قیمت 1250000 ہو گی۔اس کار کی قیمت پر پاکستانی آن لائن کیمیونٹی نے ہنگامہ کھڑا کیا اور یہ بحث ایک بار پھر شروع ہوئی کہ آخر پاکستان میں گاڑیاں اتنی مہنگی کیوں ہیں؟

 پاکستان میں 1300 سی سی سے نیچے گاڑی میں ورائٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یعنی 800 سی سی سے نیچے دو کاریں اور 1000 سی سی سے نیچے تین کاریں دستیاب ہیں اور ان میں سے یہ ساری کاریں ایک ہی کمپنی یعنی پاک سوزوکی موٹرز بناتی ہے۔ اس سے اوپر کی کیٹیگری میں صرف تین گاڑیاں ہیں جن میں سے دو ٹویوٹا کی اور ایک نووارد چینی کمپنی فا کی گاڑی ہے۔

1300 تک کی گاڑی کی مارکیٹ میں مسابقت نہ ہونے کے برابر ہے اور ورائٹی جس حد تک موجود ہے وہ دو کمپنیوں کی جانب سے ہی پیش کی جاتی ہے۔ مطلب ان کمپنیوں کی اس مارکیٹ میں اجارہ داری ہے۔باہر سے جب ایک گاڑی پاکستان لائی جاتی ہے تو اس پر تیس فیصد اخراجات اٹھ چکے ہوتے ہیں۔ جو اس کی پارٹس کی کٹ جسے ’سی کے ڈی کٹ‘ کہتے ہیں اس پر اٹھتے ہیں۔ اس کے بعد 34 فیصد کے قریب اخراجات گاڑی پر مختلف ٹیکس اور ڈیوٹیوں کی شکل میں لگتے ہیں۔ باقی 36 فیصد میں مقامی پارٹس اور اسمبلنگ پر اٹھنے والے اخراجات، گاڑی بنانے والا کا منافع اور ڈیلر کا حصہ شامل ہے۔ اس کے اوپر آن منی وغیرہ مزید اخراجات ہوتے ہیں جو اٹھتے ہیں۔

ٹویوٹا کمپنی نے گذشتہ سال مثال کے طور پر 61 ہزار گاڑی بیچیں، کمپنی کا سالانہ منافع کمپنی کی جانب سے دی جانے والی رپورٹس کے مطابق 18 ارب روپے بنا۔ اس میں سے ایک ارب ہم پرزوں کی فروخت کی مد میں نکال دیں باقی 17 ارب روپے بچتے ہیں۔ اس حساب سے فی گاڑی کمپنی نے 27 ہزار روپے کے قریب منافع کمایا۔ایک صارف نے بتایا کہ کار کی رسید پر قیمت 22 لاکھ انچاس ہزار روپے تھی مگر جب تک گاڑی سڑک پر آئی اس کی کل لاگت 24 لاکھ 36 ہزار 208 روپے تک پہنچ چکی تھی۔

گاڑیوں کی طلب اور رسد میں عدم توازن ان پر لگنے والا ٹیکس اور دو کمپنیوں کی پاکستان میں اجارہ داری  گاڑیوں کی قیمتیں زیادہ ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer