سکھ مذ ہب کے بانی بابا گرونانک کرتار پور کیسے پہنچے


نارووال ( 24نیوز ) نارووال کرتارپور سرحد سکھوں کیلئے خاص اہمیت کی حامل ہے پاکستانی حدود میں کرتارپور گاﺅں ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک نے انہوں نے کرتار پور میں18سال گزارے-ان سے منسوب گوردوارہ سکھوں کیلئے مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے ۔

گردوارہ بابا گورونانک کرتارپور پاک بھارت سرحد پر 4 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے راوی کے کنارے پر واقع ہے، بابا گورونانک 1489 ءمیں ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے ،وہ 1521 میں مذہبی تبلیغ اور کھیتی باڑی کیلئے کرتارپورہ میں آگئے روایات کے مطابق بابا گورونانک کو سکھ مذہب کے لوگ اپنا گورو اور مسلمان اپنا بزرگ پیر مانتے تھے۔

بابا گورونانک 22 ستمبر 1939 ءمیں کرتار میں رحلت فرما گئے بابا گورونانک کی وفات پر دونوں مذاہب کے پیروکاروں نے اپنے اپنے عقائد کے مطابق رسومات ادا کیں، آج بھی کرتارپور میں ایک سائیڈ پر بابا گورونانک کی قبر بنی ہوئی ہے اور دوسری سائیڈ پر بابا جی کی سمادی بنائی گئی ہے جہاں پر سکھ مذہب کے لوگ اپنا ماتھا ٹیکتے ہے اور مسلمان قبر پر دعا کرتے ہیں۔

آج بھی دونوں مذاہب کے لوگ عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کرتارپور دربار پر آتے ہیں کرتار بابا گورونانک کے گوردوارہ کی عمارت دریائے راوی میں سیلاب آنے کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھی جس کی تعمیر پٹیالہ کے مہاراجہ بھوہندر سنگھ نے 1921 ءتا 1929 ءکے درمیان مکملکرائی تھی ,عمارت کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے 1995 میں حکومت پاکستان نے بھی اس عمارت کی دوبارہ مرمتکرائی, کرتارپور ڈیرہ بابا گورونانک تک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں انڈیا اور پاکستان کے حوالے سے مشاورت کی گئی تھی جو اب 20 سال بعد دوبارہ دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے جارہا ہے۔