2018:تحریک انصاف کیلئے کامیابی کا سال

2018:تحریک انصاف کیلئے کامیابی کا سال


لاہور( 24نیوز ) تحریک انصاف کو سال دو ہزار اٹھارہ میں پنجاب میں بھی خاطر خواہ کامیابیاں ملیں، عام انتخابات میں تاریخ ساز کامیابی کے نتیجے میں مرکز اور دو صوبوں میں حکومت بنائی۔

تحریک انصاف کے لیے 2018 کا سال کامیابیوں اور چینلجز کا سال رہا، 2018 کا آغاز تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کیلئے خوشی کا پیغام لایا،اٹھارہ فروری کو بشریٰ مانیکا سے نکاح کیا،ملک گیر انتخابی مہم کا آغاز جلسے جلوسوں سے کیا، انتخابی اٹھان سے ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ تحریک انصاف مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دے گی۔

تحریک انصاف کے تبدیلی اور نئے پاکستان کے سفر میں قسمت کا ستارہ چمکا اور 25 جولائی کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو مرکز میں دو تہائی اکثریت تو نہ حاصل ہوسکی لیکن 158 سے زائد نشستیں لیکر اقتدار کی کرسی تک کی راہ ہموار ہوگی، 17 اگست کو عمران خان 176 ووٹ لیکر وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔

تحریک انصاف کے سر پر اقتدار کا ہما صرف مرکز میں ہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی چمکا،پنجاب جو مسلم لیگ ن کا گڑھ اور قلعہ تصور کیا جاتا تھا پی ٹی آئی نے اس قلعے میں سرنگ لگائی اور 371 کے ایوان میں سے 180 نشستیں حاصل کرکے اپنی راہ ہموار کرلی، اتحادی ق لیگ کے ساتھ ملکر صوبے میں عددی اکثریت 190 تک پہنچائی اور صوبے میں محفوظ حکومت قائم کرلی۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے کئی دنوں تک مشاورتی عمل چلتا رہا، با لآخر پنجاب کی پگ کا قرعہ جنوبی پنجاب کے عثمان بزدار کے نام کا نکلا، تحریک انصاف کی حکومت کا اصل امتحان اقتدار کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد شروع ہوا۔ گری ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے تلخ فیصلوں سے عوامی حلقوں میں تحریک انصاف کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ روز بروز بڑھتی اور آسمان کو چھوتی مہنگائی،سنگین معاشی صورتحال، بیرونی قرضوں کا انبار، خارجی امور سمیت ملک کو درپیش دیگر چیلنجز حکومت کے لئے ٹیسٹنگ کیس ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer