نااہلی کیس، کنٹونمنٹ بورڈ ملتان کے منتخب چیئرمین کی درخواست خارج


اسلام آباد (24 نیوز) کنٹونمنٹ بورڈ ملتان کے انتخابات سے متعلق عذرداری کیس کی سماعت میں عدالت نے ہمایوں اکبر کی درخواست خارج کر دی، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اثاثے چھپانا بددیانتی ہے، نااہلی کی مدت کا تعین عدالت کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کنٹونمنٹ بورڈ ملتان کی انتخابی عذرداری کی سماعت کی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی ایک سال کی ہوتی ہے، 5 سال یا تاحیات نااہلی کا تعین عدالت کرے گی۔  آرٹیکل 62 ون ایف پر لارجر بینچ 30 جنوری کو سماعت کرے گا۔ لارجر بینچ جو بھی فیصلہ دے گا وہی قانون ہو گا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کو تاحیات نااہل کیا گیا۔ ٹریبونل نے اثاثے چھپانے پر عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 99 ایف کے تحت نااہل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس پاکستان نے مردان میں عاصمہ کے قتل کا از خود نوٹس لے لیا

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے دوبارہ الیکشن لڑنے پر قدغن کدھر ہے؟ آپ نے اپنے اکائونٹس میں 37 لاکھ روپے ظاہر نہیں کیے۔ عدالت نے نوازشریف کیس میں کہہ دیا تھا کہ اثاثہ چھپانا بددیانتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ ٹریبونل نے الیکشن کالعدم قرار دیا۔ آپ کے مؤکل کو ناہل قرار نہیں دیا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 62 ایک ایف اور روپا قانون کے 99 ایف کے اطلاق میں فرق ہے۔

سپریم کورٹ پاکستان کے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے افتخار چیمہ کا الیکشن بھی 99 ایف کے تحت کالعدم قرار دیا تھا۔ رقم چھپانے کو اثاثہ چھپانا ہی کہا جائے گا۔ نااہلی کے معاملہ پر جلد فیصلہ دیں گے۔

عدالت نے ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف منتخب چیئرمین ہمایوں اکبر کی درخواست خارج کر دی۔