اے پی سی، استعفوں کے معاملے پر اپوزیشن تقسیم

اے پی سی، استعفوں کے معاملے پر اپوزیشن تقسیم


اسلام آباد(24 نیوز)اپوزیشن جماعتوں کا کل جماعتی کانفرنس ،وفاقی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر پچیس جولائی کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا فیصلہ،اپوزیشن اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کیلیے قائم کرنے کی سفارش، مولانا فضل الرحمان کی اسمبلیوں سے استعفوں کی تجویزن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مخالفت،اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی بھی تجویزپیش کردی گئی۔

مولانا فضل الرحمان کی میز بانی میں کل جماعتی کانفرنس میں حکومت کے ایک سال پورا ہونے پر یوم سیاہ منانے پر اتفاق کرلیاگیا ہے۔  ایک سال مکمل ہونے پر ملک گیر احتجاج اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت مخالف تحاد کو مزید متحرک کرنے کیلیے اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، کمیٹی میں اپوزیشن جماعتوں کے ہر جماعت سے ایک رہنماء کوحصہ بنایا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتےہوئے مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ دھاندلی زرہ حکومت سے نجات کا واحد حل حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آنا ہے، آل پارٹیز کانفرنس میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو حکومت مخالف موقف اپنانے پر زوردیا۔

اجلاس میں مولانا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفوں کی تجویز پیش کی گئی ،پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ ن نے اسمبلیوں سے استعفوں کی مولانا فضل الرحمان کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اسمبلیوں سے استعفےملکی مسائل کا حل نہیں ہے ۔

آل پارٹیز کانفرنس میں اے این پی نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی بھی تجویز دے دی، اسفندیار ولی خان نے کہاکہ قومی اسمبلی میں فوری تبدیلی نہیں لا سکتے تو چیئرمین سینیٹ کے خلاف تو لا سکتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ مستقبل میں اپوزیشن کے خلاف سب سے بڑا خطرہ ہو گا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نےکہاکہ دھاندلی زدہ حکومت عوام کی نمائندگی کر ہی نہیں سکتی ۔ہمیں عوام کی نمائندگی کرنی چاہیے انھوں نے کہاکہ بجٹ کو مسترد کرچکے ہیں ۔پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر کردار ادا کریں گے ۔ 

اجلاس سے خطاب میں مریم نواز نے کہاکہ عوام کو اپوزیشن سے بہت توقعات ہیں، اگر قابل عمل لائحہ عمل عوام کے سامنے نہ رکھا تو مایوسی بڑھے گیانھوں نے تجویز دی کہ اگر مسلم لیگ ن پنجاب سے پیپلزپارٹی سندھ سے مولانافضل الرحمٰن اور اے این پی پختونخواہ سے اور بلوچستان عوامی پارٹی اور اچکزئی بلوچستان سے آتے ہیں اور اسلام آباد بند کردیتے ہیں اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔

اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام اے پی سی میں شرکت کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی وفد کے ہمراہ پہنچ گئے،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، جماعت اہل حدیث کے رہنما علامہ ساجد میر، شاہ اویس نورانی اور آفتاب خان شیر پاؤ بھی مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر پہنچ گئے۔ 

اے پی سی میں شرکت سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں شہباز شریف کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے  اے پی سی میں بلاول بھٹو اور شہباز کی شرکت کا فیصلہ کیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اے پی سی میں سربراہوں سمیت وفد شریک ہوں گے۔صحافی نے سوال کیا کہ 'آپ کی اور بلاول کی شرکت کا فیصلہ اب کیوں ہو رہا ہے، کیا کوئی کنفیوژن ہے' جس پر شہباز شریف نے کہا کہ کوئی کنفیوژن نہیں، آپ کو کسی نے غلط خبر دی۔ 

شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کا 14 رکنی وفد اے پی سی میں شرکت کرے گا، وفد میں راجا ظفرالحق، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، سینیٹر جاوید عباسی، ایاز صادق، سردار مہتاب خان، احسن اقبال، جنرل (ر) قادر بلوچ، رانا ثنااللہ، شاہ محمد شاہ، ڈاکٹر عباد، مرتضیٰ جاوید عباسی اور مریم اورنگزیب شامل ہیں۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے کُل جماعتی کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے 5 رکنی وفد کا اعلان کیا ہے جو یوسف رضا گیلانی، رضا ربانی، نئیر بخاری، شیری رحمان اور فرحت اللہ بابر پر مشتمل ہے۔مولانا فضل الرحمن نے  اے پی سی میں شرکت کے لیے سینیٹر حاصل بزنجو، سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی اور آفتاب احمد خان شیر پاؤ کو بھی دعوت نامے بھجوائے ہیں۔

ادھر متحدہ مجلس عمل کے سینیٹر سراج الحق، ساجد نقوی، ساجد میر اور اویس نورانی کو بھی دعوت دی گئی ہے تاہم جماعت اسلامی نے کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔

کُل جماعتی کانفرنس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی تبدیلی، بجٹ منظوری روکنے سے متعلق معاملات پر مشاورت ہوگی، اس کے علاوہ حکومت مخالف تحریک اور لاک ڈاؤن کے فیصلے پر غور کیا جائے گا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer