بھیک کا خاتمہ کیسے ممکن ؟

مناظرعلی

بھیک کا خاتمہ کیسے ممکن ؟


کسی بھی شہرمیں سڑک پرجاتے ہوئے اکثرٹریفک سگنل بندہوتے ہی کم سن بچوں کاایک جم غفیرگاڑی کی طرف لپکتاہوادکھائی دیتاہے،کچھ خواتین چھوٹے بچوں کوکاندھے سے لگائےآپ کی گاڑی کھٹکٹاتی ہیں،اسی طرح کچھ کم سن بچے بچیاں آپ کی گاڑی کی سکرین صاف کرناشروع کردیتے ہیں،کسی کے ہاتھ پنسلیں توکسی کے ہاتھ میں سپارے ہوتے ہیں،کچھ ماچس فروخت کررہے ہوتے ہیں توکچھ غبارے،کچھ بچے مختلف قسم کے کھلونے بیچنے کیلئے سگنل بندہونے کاانتظارکرتے ہیں،آپ کومختلف اشیاء بیچنے والے یاپھرصرف بھیک مانگتے بچے اکثرملیں گے،ممکن ہے کہ میری طرح آپ کے ذہن میں بھی یہی سوالات جنم لیتے ہوں کہ یہ بچے سکول نہیں جاتے؟کیایہ بچے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں،یہ بچے واقعی غریب ہیں یاپھران کاتعلق کسی مافیاسے ہے،یہ بچے جن خواتین کیساتھ مل کر دست سوال درازکرتے ہیں کیاواقعی یہ بچے انہیں خواتین کے اپنے لخت جگرہیں یاپھرکہیں سے اغواء کیے گئے ہیں،میں بعض دفعہ ایسے بچوں سے سوال بھی کرتاہوں جن میں سے اکثرکے جواب ملتے جلتے ہوتے ہیں،ان بچوں کے مطابق کسی کی ماں نہیں،کسی کاباپ نہیں،کسی کے والدین دونوں ہی دنیاسے کوچ کرچکے ہیں توکچھ کے بیمارہیں،معاملہ جو بھی ہوآخریہ بچے ہمارے ہی ہیں۔یہ ملک کامستقبل ہیں،ہم انہیں بھکاری بنائیں یاسکول بھیج کرایک تعلیم یافتہ انسان بنادیں تاکہ ملک کامستقبل روشن ہو،،یہ کیسے ممکن ہوگا،اس پرکچھ مزیدبات کرتے ہیں۔۔

بچے ہوں یابڑے،جب محروم ہوں،غریب ہوں،لاچارہوں یاکسی بھی طرح ان کے پاس وہ سب کچھ نہ ہوجوایک عام انسان کی ضرورت ہے توپھرمجموعی طورپرپورے معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی مالی مشکلات حل کرنے میں اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالے،اس میں ایک روپیہ روزانہ سے لے کرایک سوروپیہ روزانہ حصہ ڈالاجاسکتاہے،اس میں اگرکسی کواستطاعت ہوتووہ روزانہ ایک ہزار روپے بھی انسانیت کی بھلائی پرخرچ کرسکتاہے،اس میں ہم اس طرح بھی کرسکتے ہیں کہ ہمسائے کے حقوق کے تناظرمیں اگرچیزوں کودیکھیں توپھربہت سے مسائل جن کی وجہ سے ایسی صورتحال پیداہوتی ہے ،وہ حل ہوسکتے ہیں،گلی محلے میں بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جوکم آمدن کی وجہ سے مالی مسائل کاشکارہیں،ممکن ہے کچھ ایسے بھی ہوں جو خط غربت سے نیچے زندگی بسرکررہے ہوں،کچھ ایسے بچے ضرورہوں گے جوسکول جانے کی بجائے،طلوع آفتاب کیساتھ ہی بھیک کیلئے کمربستہ ہوجاتے ہوں گے،انہیں صاحب استطاعت افراداپنے بچوں کی طرح سکول بھیجنے کابندوبست کریں اوران کی بھیک کی کمائی سے چلنے والے گھروں کومل جل کرچلائیں،یہ بھی کیاجاسکتاہے کہ محلے کے کچھ مالدارلوگ مل کرغریب آدمی کوکوئی نوکری دلادیں،کوئی چھوٹاساکاروبارشروع کرادیں،کسی دکان پررکھوا دیں،کوئی ریڑھی لگوادیں یاکچھ بھی ایساکام کہ جس سے انہیں خود اوربچوں کوبھیک کے راستے پرچلانے کی مجبوری نہ رہے۔

معاشرے کے افرادیہ بھی کرسکتے ہیں کہ نجی وسرکاری سکول سربراہان بذات خوداس کام میں دلچسپی لیں کہ جس علاقے میں ان کاسکول قائم ہے وہاں کچھ معززین کی ایک کمیٹٰی بناکرچیک کریں کہ کون سے بچے سکول سے باہرہیں،ان کے گھروں میں جاکران کے خاندان کی مالی کیفیت کاجائزہ لیں،اگروہ واقعی اتنے غریب ہیں کہ بچوں سے کام کرائے بغیران کاچولہانہیں جلتاتوپھران کی متبادل آمدن پرمشاورت کرکے ان کے خاندان کی مستقل آمدن کابندوبست کرکے بچے کوسکول میں داخل کرائیں اورایسے بچے کے تمام تعلیمی اخراجات کابھی وہی کمیٹی بندوبست کرے،اس کے علاوہ پرائیویٹ سکول مالکان ایسے بچوں کی فیس معاف اوردیگراخراجات بھی خود برداشت کریں اورانہیں دیگربچوں کی طرح معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کریں۔

کچھ خاندان ایسے ہوسکتے ہیں کہ جن کے گھرمیں کوئی ایسی بیماری میں مبتلاہو، اوروہی گھرکاواحدکفیل بھی ہو،ایسی صورت میں گھرکی خواتین یابچوں کوبھیک مانگنے کی مجبوری ہو،محلے میں بنی کمیٹیاں ہی ایسے افرادکامناسب حل کریں تومشکل نہیں،علاج معالجہ کیلئے ہرعلاقے میں قائم پرائیویٹ کلینک مفت طبی سہولیات فراہم کرسکتے ہیں،سرکاری ہسپتالوں میں بھی ایسے افرادکوخصوصی توجہ دے کران سے کسی قسم کی فیس وصول نہ کی جائے۔

معاشرے میں ایسے بہت سے رحم دل لوگ اس نوعیت کے کام کررہے ہیں،جیسا کہ مستحق لڑکے لڑکیوں کی اجتماعی شادیوں کابندوبست کررہے ہیں،یہ سلسلہ بھی مزیدبڑھانے کی ضرورت ہے،جیساکہ میں نے پہلے ذکرکیاکہ محلے کی سطح پرکمیٹیاں بناکرایسے مسائل کومقامی سطح پرہی حل کیاجاسکتاہے،کمیٹی کے ارکان کے علم میں ہوکہ کس گھرمیں بچے یابچی کی شادی کی تاریخ طے ہوئی ہے،وہ گھرکے سربراہ سے ملاقات کرکے ان کے ضروری اخراجات اوربچی کی شادی میں ضروری جہیزکاسامان خریدکردیں،یہی کمیٹیاں ایسے معززین پرمشتمل ہونی چاہئیں جوچھوٹے موٹے لڑائی جھگڑے کے واقعات جنہیں لوگ غصے میں آکرتھانے کچہری میں لے کرچلے جاتے ہیں اوروہاں کچھ لالچی لوگ ان کی جیبوں پرڈاکہ ڈالتے ہیں،جھگڑے کاآخرکارحل صلح ہی ہے اوریہی کام محلے کی سطح پرکیاجاسکتاہے،فریقین کے موقف سن کرانہیں سمجھایاجاسکتاہے اورجھگڑے بڑھانے کے نقصانات سے آگاہ کیاجاسکتاہے تاکہ لوگوں پرتھانے کچہرے کے اخراجات نہ آئیں۔

کئی شہروں میں مخٰیرحضرات کے تعاون مفت دسترخوان لگائے جاتے ہیں جہاں بلاتفریق امیروغریب کھانافراہم کیاجاتاہے جوایک اچھی روایت ہے،بھوک مٹانے اورکم آمدن والے افرادکی مشکلات مفت دسترخوان کی صورت میں بھی کم کی جاسکتی ہیں،صاحب استطاعت افرادپرمشتمل کمیٹی بناکرایسے افرادجن کے پاس کھانے کیلئے کچھ نہیں،انہیں کھانافراہم کیاجائے،ان کے گھرراشن پہنچایاجائےاورعیدوں پران کے بچوں اوردیگرافرادکونئے کپڑے،جوتے اوردیگرضرورت کی اشیاء لے کردی جائیں۔۔۔یہ تمام کام شروع کرنے کے بعدبھی اگرکوئی بھیک مانگتانظرآئے توپھرچائلڈپروٹیکشن بیورو،پولیس اوردیگرمتعلقہ ادارے بھکاری کوپکڑکراس کی حقیقت معلوم کرے،اگرواقعی اس کاکوئی مسئؒلہ ہے تواسے محلے کی کمیٹیوں کے علم میں لاکراسے بھی ان لوگوں کی فہرست میں شامل کرائے جن کی روزانہ کی بنیادپرمقامی سطح پرہی مددکی جاتی ہے یاانہیں برسرروزگاربنانے کیلئے تعاون کیاجاتاہے،بصورت دیگربھیک مانگنے والے کواصلاحی مراکزکے حوالے کرکے انہیں سمجھایاجائے کہ بھیک مانگناکتنابڑاجرم ہے اورمحنت میں عظمت ہے۔

بات احساس کی ہے،اگرمعاشرے کے افرادمیں احساس پیداہو جائے توسڑکوں پرنہ کوئی بچہ بھیک مانگتانظرآئے گا،نہ بھیک کیلئے جمعرات کے روزگلیوں میں کوئی صدابلندہوگی،ہرچیزکوصرف حکمرانوں اوراداروں پرہی ڈال کرخود اپنی ذمہ داری سے راہ فراراختیارکرنابھی مناسب عمل نہیں،ملک وقوم کی بہتری کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہم سب معاشرے کے محروم طبقات،ضیعفوں،بیواؤں،لاچاروں،یتیموں اوربچوں کاخیال رکھیں اوران کی بحالی کیلئے سنجیدہ کوششیں کریں،ورنہ جتنااس کی ریاست ذمہ دار ہے اتناہی پورامعاشرہ بھی قصوروارتصورکیاجائے گا۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔