ارکان پارلیمنٹ کو سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروانے کا مشورہ

ارکان پارلیمنٹ کو سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروانے کا مشورہ


اسلام آباد(24 نیوز)وزیر مملکت علی محمد خان نے ارکان پارلیمنٹ کو سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروانے کا مشورہ دے ڈالا،سسی پلیجو کہتی ہیں کہ پارلیمنٹرینز کی مراعات بڑھانے کی بجائے کم ہونی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں ستارہ ایاز نے ارکان پارلیمنٹ کو ہیلتھ کارڈ جاری کرنے کی تجویز دی، جس پر پارلیمانی امور حکام نے بتایا کہ ارکان پارلیمنٹ کو گریڈ بائیس کے افسران کے برابر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے،  چیئر پرسن کمیٹی سسی پلیجو نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ پر پہلے ہی مراعات لینے کے معاملے پر تنقید ہوتی ہے، ارکان پارلیمنٹ کی سہولیات بڑھانے کی بجائے اور بھی کم ہونی چاہئے۔وزارت پارلیمانی امور نے بل کی مخالفت کردی۔

وزیر مملکت علی محمد خان کا کہنا تھا  کہ اس وقت پہلے ہی قومی خزانے پر بوجھ ہے، کیا نجی اسپتالوں کے اخراجات حکومت برداشت کر پائیگی؟انہوں نے مزید  کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو سرکاری اسپتالوں سے علاج کروانا چاہیئے جبکہ نجی اسپتالوں سے علاج اپنے خرچے پر کروانا چاہیئے جس پر سینیٹر ستارہ ایاز نے ارکان کی تنخواہ اور مراعات سے متعلق بل واپس لے لیا۔