مالی سال 19-2018 کیلئے59 کھرب 32 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش


اسلام آباد (24 نیوز) مہنگائی میں ہوشربا اضافہ، افراط زر میں کمی، قرضوں کا پہاڑ، ایسے حالات میں5932 ارب روپے کا آئندہ مالی سال کا قومی بجٹ پیش۔

 

بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت کے چلنے کے لیے بجٹ بہت ضروری ہے۔ حکومت کا نظم و نسق اس کے بغیر نہیں چل سکتا۔ موجودہ بجٹ عوامی امنگوں کا ترجمان ہے۔ حکومت نے تباہ شدہ معیشت ورثہ میں پائی تھی۔ میاں نواز شریف کی قیادت میں جب ن لیگ نے اقتدار سنبھالا تو معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے۔ در پیش چیلنجوں کا سامنا کیا گیا اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر ملکی استحکام کے لیے کام کیا گیا۔

 

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجٹ میں سول اور فوجی ملازمین کو 10 فیصد ایڈ ہاک ریلیف دیا جا رہا ہے۔ تمام پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ کم از کم پنشن 10 ہزار ہو گی۔ فیملی پنشن 4 ہزار 5 سو سے بڑھا کر 7 ہزار 5 سو کر دی گئی۔ 75 سال سے زائد پنشنرز کی پنشن 15 ہزار ہو گی۔ اسٹاف ڈرائیور اور ڈسپیچ رائٹرز کا اوور ٹائم الاؤنس 40 روپے سے 80 روپے گھنٹہ کر دیا گیا۔ سرکاری ملازمین کے گھر، گاڑی اور موٹرسائیکل ایڈوانس کے لیے 12 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سینئر آفیسرز کے کارکردگی الاؤنس کی مد میں 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

 

بجٹ اجلاس میں وفاقی کا کہنا تھا کہ پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل اور دیگر مصنوعات پر ٹیکس 200 فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی 10 روپے سے 30 روپے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایل پی جی میں 20ہزار روپے فی میٹرک ٹن پٹرولیم لیوی بڑھانے کا بھی فیصلہ  کیا گیا ہے۔

دستاویزات کےمطابق 170اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی زیرو کردی گئی ہے۔ ٹیکسٹائل مشینری کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی زیرو کردی گئی ہے۔ کھادوں پر کسٹمز ڈیوٹی زیرو کردی گئی ہے۔ کاٹن یارن پر کسٹمز ڈیوٹی زیرو کردی گئی ہے۔

 

ترقیاتی بجٹ کے لیے ن لیگ کی حکومت نے 20 کھرب اور 43 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ جس میں 10 کھرب اور 30 وفاق جبکہ 10 کھرب اور 13 صوبوں کے لیے ہوں گے۔ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 435 روپے رکھا گیا ہے۔ ریلوے کی ترقی کے لیے 40 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پاکستان ریلوے کے ترقیاتی بجٹ میں 29 جاری منصوبوں کے لیے 27 ارب اور 75 کروڑ سے زائد مختص کیے گئے ہیں جبکہ 10 نئی اسکیمیں بھی ہیں جن کے لیے 12 اور 24 کروڑ سے زائد مختص کیے ہیں۔

وفاقی بجٹ میں وزارت صحت کے ترقیاتی مںصوبوں کے لیے 30 ارب اور 73 کروڑ سے زائد رکھے گئے ہیں۔ جن میں 12 ارب سے زائد جاری منصوبوں جبکہ 18 ارب سے زائد نئے 36 منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔کینسر پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے جبکہ بنیادی صحت کے لیے 37 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ تعلیم کے لیے 7 ارب روپے اضافہ کے ساتھ 97 ارب اور 42کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ جبکہ وزارت تعلیم اور فنی تربیت کے ترقیاتی اخراجات کی مد میں 4 ارب 33 کروڑ رکھے گئے ہیں۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگروم کے لیے 124 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 

اگلے مالی سال کے لیے نان فائلز کمپنی پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح ایک فیصد بڑھاتے ہوئے 8 فیصد کردی گئی ہے۔ نان فائلرز کے لیے 40 لاکھ سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے پر پابندی ہوگی۔ ٹیکس دہندگان کو تین سال میں ایک مرتبہ آڈٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جائیداد پر ود ہولڈنگ ٹیکس، خریدار کی ظاہر کردہ ویلیو پر ایک فیصد ایڈجسٹ ایبل ایڈوانس ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔کمپیوٹر پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیاہے۔ وزارت داخلہ کے لیے 24 ارب اور 20 کروڑ سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔وزارت قانون و انصاف کے لیے ایک ارب سے زائد رکھے گئے ہیں۔ ایوی ایشن ڈوژن کے لیے 4 ارب اور 67 کروڑ سے زائد رکھے گئے ہیں۔

ہر قسم کی کھادوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 3 فیصد تک کم کر دی گئی ہے۔ ایل این جی پر ویلیو ایڈیشن ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔ قرآن پاک کی طباعت میں استعمال ہونے والے کاغذ پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ دے دی گئی۔فاٹا کے لیے ساڑھے 24 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سگریٹ مہنگے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔نوجوانوں کے لیے وزیر اعظم کی مختلف سکیموں کے لیے 10 ارب رکھے گئے ہیں۔الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدگی پر عائد کسٹم ڈیوٹی 50 فیصد کے بجائے 25 فیصد کر دی گئی ہے۔ کراچی میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے پلانٹ کی تجویز، شہر قائد میں گرین بسیں خرید کر دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے لیے 30ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں۔ وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے ڈیڑھ ارب سے زائد کی تجویز ہے۔ زراعت، ڈیری اور پولٹری کے لیے وٹامنز کی در آمد پر کسٹم 10 کے بجائے 5 فیصد کر دیا گیا۔ نظر کی عینکوں پر کسٹم ڈیوٹی محض تین فیصد کر دی گئی۔ فلموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے پانچ سال انکم ٹیکس پر 50 فیصد رعایت جبکہ مستحق فنکاروں کی مالی امداد کے لیے فنڈر کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

اپوزیشن کی ہلڑبازی، بجٹ کی کاپیاں وزیرخزانہ کی جانب پھینکیں، اپوزیشن نے نو مفتاح نو کے نعرے بھی لگائے جس پر مفتاح اسماعیل ہنس پڑے۔ لیگی ارکان نے مفتاح اسماعیل کے گرد حصار بنا لیا۔ احتجاج کرنے والوں میں مراد سعید اور جمشید دستی آگے آگے تھے۔ اپوزیشن کی جانب سے واک آؤٹ بھی کیا گیا۔ ان سب چیزوں کے باعث وزیر خزانہ  کو تقریر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

 

بجٹ اجلاس کے دوران مراد سعید ، عابد شیر علی اور دیگر ارکان میں ہاتھا پائی۔ تحریک انصاف کے ارکان مشکل سے مراد سعید کو اپوزیشن بینچوں پر لے گئے۔ مراد سعید دوستوں سے ہاتھ چھڑا کر دوبارہ حکومتی بینچز پر لپک پڑے۔ تحریک انصاف کے ارکان نے مشتعل رکن اسمبلی کو آگے نہ بڑھنے دیا۔

اس سے قبل اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کوبجٹ پیش کرنے دینا ووٹ کی توہین ہے۔نوازشریف کو بھی کہا تھا پارلیمنٹ کوعزت دیں۔پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آئین کی بالادستی کی بات کی ہے۔دو تہائی اکثریت میں سے ایک بھی شخص نہیں ملا بجٹ پیش کرنے کے لیے؟ ابھی بھی وقت ہے رانا افضل کو بجٹ پیش کرنے کے لیے لاؤ۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس بجٹ کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ ایک ماہ کی حکومت سال کا بجٹ پیش نہیں کر سکتی۔ رانا افضل کو وفاقی وزیر بنائے جانے پر بھی انھوں نے تنقید کی۔

ویڈیو دیکھیں:


مزید دیکھیں: