آپ اداسی، ذہنی تناؤ کا شکار ہیں؟


لاہور(24نیوز) خوش رہنا ہے تو ٹینشن کوبگھانا ہے، ایک دودن کی اداسی کوذہنی تناؤنہیں کہاجاسکتا، ماہرنفسیات ڈاکٹرطاہرہ رباب بنیں ٹوئنٹی فورنیوز کی مہمان  بنیں ان کا کہنا ہےکہ ہرانسان کوکم ازکم15سے20منٹ اپنی ذات کیلئےنکالنےچاہئیں۔
کہتے ہیں خوشی زندگی کی علامت اوراداسی زندگی سے بے زاری، جس طرح پودے کو بڑھنے کے لئے پانی اورہوا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح خوشگوار زندگی کےلئے بےفکری ضروری ہے۔
ماہرنفسیات ڈاکٹرطاہرہ رباب ٹوئنٹی فورنیوز کی مہمان بنیں۔ ان کاکہنا ہے کہ نیند کی کمی،بھوک نہ لگنا،وزن کاتیزی سےبڑھنایاکم ہوناذہنی تناؤ  کی علامات ہیں۔ذہنی تناؤمیں مبتلا شخص ہروقت منفی باتیں کرتاہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئین کا آرٹیکل 62 ، 63 کالا قانون ہے: خورشید شاہ

ڈاکٹرطاہرہ رباب کا کہنا تھاکہ ہرانسان کوکم ازکم15سے20منٹ اپنی ذات کیلئےنکالنےچاہئیں۔ خواتین میں ڈلیوی کےبعداس مرض کابہت زیادہ امکان ہوتاہے۔حاملہ خواتین کواپنےرویےپرنظررکھنی چاہئے۔
دنیابھرمیں ذہنی تناؤکامرض تیزی سے بڑھ رہاہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ انسان کو خوش رہنے کے لئے پارکوں اور پرفضامقامات کاوزٹ ضرورکرنا چاہیئے۔