دہشت کے ماحول میں بچوں کو پڑھانے والی صحرائی علاقے کی باہمت استانی

دہشت کے ماحول میں بچوں کو پڑھانے والی صحرائی علاقے کی باہمت استانی


تونسہ شریف ( 24نیوز ) تونسہ شریف کی استانی ماہ جبیں صحرائی علاقے دہشت گردوں اور ڈاکووں کے علاقوں میں گزر کر عرصہ 6 سال روزانہ تقریبا 60 کلومیٹر فاصلہ طے کر کے خود موٹر سائیکل چلا کر پسماندہ ترین علاقے کے اسکول گورنمنٹ پرائمری سکول بوائز کلیری میں علاقے کے طلبہ و طالبات کو پڑھانے کے لیئے آتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تونسہ کے نواحی علاقے سوکڑ کی ٹیچرماہ جبیں کی تقرری 6 سال قبل محکمہ تعلیم ڈیرہ غازیخان میں بطور ایجوکیٹر گورنمنٹ پرائمری سکول مردانہ کلیری ٹرائیبل ایریا تمن کھوسہ ڈیرہ غازیخان میں کیا تھا مذکورہ سکول دور دراز ہونے اور ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے روزانہ 60 کلومیٹر موٹر سائیکل چلا کرسکول جارہی ہے مذکورہ علاقہ ٹرائیبل ایریا تمن کھوسہ ٹرائیبل ایریا تمن بزدار کے وسط اور کوہ سلیمان کے دامن میں ہے اس علاقہ کو پنجاب کا تھر کہا جاتا ہے جہاں راستے میں کوئی سہولت نہیں جذبہ رکھنے والی قوم کی بیٹی نے حوصلہ بڑھاتے ہوئے اپنی موٹر سائیکل لے رکھی ہے روزانہ خود بائیک چلا کر 60 کلومیٹر کا فصلہ طے کر کے باقاعدہ اسکول پہنچتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مالی سال 19-2018 کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا
مذکورہ علاقے میں کئی مرتبہ حساس اداروں نے آپریشن کر کے کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا اس علاقے کے درجنوں خطرناک ڈاکو پنجاب پولیس کے مقابلے میں ہلاک بھی ہوگئے لیکن خاتون ٹیچر نے ہمت نہ ہاری روزانہ خطرناک علاقے میں اکیلی گزر کر باقاعدہ اسکول پہنچ رہی ہے جب اس سلسلہ میں اسکول ٹیچرس ماہ جبیں سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا میں ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہوں محنت مزدوری کر کے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی بڑی مشکل سے گورنمنٹ پرائمری سکول کلیری تقرری ہوئی کیونکہ اسکول جانے کے لیئے کوئی پختہ سڑک نہیں اور نہ ہی راستے میں آبادی ہے نہ ہی راستے میں پینے کا پانی میسر ہے اسلیئے انہوں نے مجبور ہو کر اور سچے جذبے کے تحت موٹر سائیکل خریدی اور باقاعدہ اسکول جانے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: بجلی کی عدم فراہمی پر جماعت اسلامی کی ہڑتال اور دھرنے
انہوں نے بتایا میرا حوصلہ بلند ہے کیونکہ قوم کی بیٹی ہوں جنوبی پنجاب کے پسماندہ خطہ کے نونہالوں کو پڑھا رہی ہیں میرے لیئے اعزاز ہے انہوں نے کہا راستے میں کئی خطرناک لوگوں کا سامنا ہوا لیکن مجھے اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ ہے اور مکمل یقین ہے اس نے بتایا کہ میں نے کئی بار محکمہ تعلیم ڈیرہ غازیخان کے حکام کو اپنی مجبوری بھی بتائی لیکن میرا آج تک تبادلہ نہیں ہوسکا اس نے خادم اعلیٰ اور حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ میرا گھر کے نزدیک سکول میں میرا تبادلہ کیا جائے تاکہ میری پریشانی کا خاتمہ ہوسکے۔