بڑے باپ کی بڑی بیٹی،محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کو 10 برس بیت گئے


اسلام آباد (24نیوز) آج بینظیر بھٹو کو شہید ہوئے دس سال پورے ہوگئے، بی بی کی شہادت سے قومی سیاست میں خلا پیدا ہوگی،گڑھی خدابخش میں قافلوں کی آمد جاری ہے،قرآن خوانی کی جارہی ہے جبکہ سندھ بھر میں آج عام تعطیل ہے۔

تفصیلات کے مطابق بڑے باپ کی بڑی بیٹی، ہمت و حوصلے کی اعلیٰ مثال، شہید محترمہ بے ںظیر بھٹو ، پنکی سے شہادت تک کا کامیاب سفر طے کیا,بابا کی لاڈلی نے اپنی والدہ نصرت بھٹو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے،شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کے بعد دنیا کے سامنے اپنے بے گناہ والد کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا، نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم منتخب ہوئیں تو دنیا نے بھٹو کے تیور ایک بار پھر دیکھے۔

نوے کی دہائی میں بھی سیاست محترمہ بے نظیر بھٹو کے گرد گھومتی رہی، جب اپنے جیالوں سے خطاب کرتیں تو عوام کا ٹھاٹھے مارتا سمندر یک زبان ہوکر کہتا زندہ ہے بھٹو زندہ ہے۔

شوہر قید میں 3 بچوں کی پرورش کی اور پھر ملک کی سیاسی صورتحال محترمہ نے ہر جگہ اپنی ذہانت کے جوہر دکھائے,خود ساختہ جلا وطنی اور پھر 2007 میں وطن واپسی، آخر، عوامی لیڈر، عوام سے کیسے دور رہے، باوجود اس کے کہ جان کو شدید خطرات لاحق تھے، دھماکے ہوئے، پر وہ نہ گھبرائیں، آخر کار 27 دسمبر 2007 کا وہ سیاہ دن آیا، جب راولپنڈی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو دہشت گردوں نے خاک کو خون میں نہلادیا، بھٹو کی سیاست بصیرت ، شہرت،وراثت میں ملی تھی تو شہادت کا سرخ ورثہ بھی اپنے نام کیا۔

  شہادت سے ایک دن قبل پشاور کے ارباب نیاز سٹیڈیم میں پی پی کے جلسے میں بارودی مواد پکڑا گیا تھا مگر بی بی شہید کی جرأت کو سلام جنہوں نے منع کرنے کے باوجود لیاقت باغ کے جلسے میں شرکت کی۔