عوام میں 100 روپے لیٹر دودھ خریدنے کی سقت نہیں،دودھ کی قیت کا تعین ایک مسئلہ بن گیا

عوام میں 100 روپے لیٹر دودھ خریدنے کی سقت نہیں،دودھ کی قیت کا تعین ایک مسئلہ بن گیا


کراچی(24نیوز) دودھ کی قیت کا تعین ایک مسئلہ بن گیا، ریٹیلرز دودھ 85 روپے فی لیٹر فروخت کرنے کو تیار نہیں، عوام میں 100 روپے لیٹر دودھ خریدنے کی سقت نہیں، سندھ ہائیکورٹ نے اسٹیک ہولڈرز کی سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کرنے اور 3 ہفتے میں معاملہ نمٹانے کے احکامات جاری کر دئیے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ دورانِ سماعت ریٹیلرز نے موقف اختیار کیا کہ مقرر کردہ 85روپے فی لیٹر دودھ فروخت کرنے میں مالی نقصان ہورہا ہے۔ کمشنر کراچی نے موقف اختیار کہ کہ قیمت اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مقرر کی گئی ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ اپنی قیمتوں کے لئے لڑ رہے ہیں کنزیومر کا کسی کو خیال ہے۔ دودھ کے نام پر عوام کو پانی پلایا جارہا ہے۔ جس دن عوام کو اپنے حقوق کا خیال آگیا اس دن سارے مسلے حل ہو جائیں گے۔

دوسری جانب عدالت نے استفسار کیا کہ دودھ کی قیمت پر لڑ رہے ہیں دودھ کے معیار کو جانچنے کے لئے بھی کچھ کیا۔عدالت کے استفسار پر عدالت میں سناٹا چھاگیا۔ عدالت نے  دودھ کی قیمت کے تعین کے اختیار سے متعلق قانونی اسٹیک ہولڈرز سے اپنی سفارشات تحریری طور پر پیش کرنے کا حکم دے دیا۔سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ 3ہفتوں میں اس معاملے کو نمٹایا جائے۔