انصاف بعد از وفات

مناظرعلی

انصاف بعد از وفات


پتہ نہیں ہم ہمیشہ لیٹ کیوں ہوجاتے ہیں؟ہمارے جہازاڑان بھرنے میں،ریل گاڑیاں چلنے میں،افسرڈیوٹی پرپہنچنے میں،حتی کہ کسی دعوت ولیمہ میں،کسی دوستوں کی محفل میں،کسی مریض کوہسپتال پہنچنانے میں،کسی گاڑی کوٹھیک کرانے میں،دوسروں کو پہچاننے میں، جہاں بھی نظردوڑائیں بروقت کچھ ہوتانظرنہیں آتا اورتو اوریہاں انصاف کی دیوی بھی مہربان ہوتے ہوتے اتنی تاخیرکردیتی ہے کہ بعض دفعہ متاثرہ شخص کو اس انصاف کی خاص ضرورت نہیں رہ جاتی،کچھ عرصہ قبل ایک ملزم کواُس وقت بے گناہ قراردیاگیاجب وہ کئی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے یہ لفظ سننے کاانتظارکرتے کرتے دنیاسے ہی جاچکاتھا۔ یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ زمین کے کیس اتنے طویل ہوتے ہیں کہ فیصلہ سننے کیلئے ساری زندگی کاٹناپڑتی ہے اوربعض دفعہ توتھانہ کچہری کاسفرکٹتاہی نہیں اورمخالفین مدعی کی گردن کاٹ دیتے ہیں۔

ابھی تازہ واقعہ نقیب اللہ محسود کاہی دیکھ لیں جس کی ہرتصویردیکھ کراس کے قتل پرآنکھیں نم ہوجاتی ہیں،اس معصوم کوتیرہ جنوری دوہزارسترہ کوراؤانوارکے ایک پولیس مقابلے میں ابدی نیندسلادیاگیاتھا،الزام یہ تھا کہ نقیب کے داعش اورلشکرجھنگوی سے تعلقات ہیں،ان تعلقات کوسچ ثابت کرنے تک اسے دنیاپربرداشت نہیں کیاگیا،،اس کے لواحقین کی دنیااجاڑنے کے بعداب کتناعجیب لگ رہاہے کہ وہ بے گناہ ثابت ہوگیاہے۔دہشتگردی،اسلحہ وبارود رکھنے کے الزام میں دائرپانچوں مقدمات خارج ہوگئے اورقراردیاگیاکہ سوشل میڈیاپروفائل سے وہ ایک لبرل،فن سے محبت کرنے والااورماڈل بننے کاخواہشمندنوجوان تھا۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن عابد قائم خانی کی پانچ رپورٹس کی روشنی میں تمام الزامات کو گمراہ کن قرار دیا گیا،مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں اس انصاف ملنے پرخوش ہوں یاافسوس کروں؟

کہتے ہیں نا  کہ مرنے کے بعدبندے کامعاملہ اللہ کے پاس چلاجاتاہےپھروہ اپنے اعمال کی بناپراپنے رب سے صلہ پالیتاہے، پھرہم یہاں کس چیزکاتماشابناکربیٹھے رہتے ہیں،جب انسان کودنیامیں انصاف کی ضرورت ہے تب تواسے رعایت بھی نہیں ملتی اورجب اسے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ آپ اسے مجرم ٹھہرائیں یابے قصور،پھرفیصلے آجاتے ہیں۔ یہ ملبہ نئی حکومت پرڈالنانہیں بنتا مگرمجھے عمران خان کے برسراقتدارآنے سے پہلے کے نعرے یہاں بہت یاد آرہے ہیں جب وہ کہتے تھے کہ سسٹم کوٹھیک کرناہے،سسٹم ٹھیک ہوگاتوسب کچھ ٹھیک ہوجائےگا،وزیراعظم اپنے طورپرتجربات کررہے ہیں،اللہ کرے وہ ملکی مفادات کے حق میں اپنی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں تاکہ ملک کا بھلاہومگرتازہ سانحہ ساہیوال بھی خان صاحب کوجھنجوڑنے کے لیے کافی ہے جس نے سسٹم سے خوب پردہ اٹھایاہے،معصوم فیملی کوبھی نقیب اللہ محسود کی طرح مرنے کے بعدہی بے گناہ قراردیاگیا،توبتائیں کہ اس بے گناہی سے لواحقین کاغم مٹ جائے گی؟ اس بعدازوفات انصاف کی روش سمجھ سے بالاترہے۔یہ سلسلہ رُکنا چاہیے،یہ سلسلہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔