فیض آباد دھرنے میں فوج کا کیا کردار تھا؟ رپورٹ سامنے آگئی


24 نیوز: فیض آباد دھرنے کے بارے میں فوج کے کردار سے متعلق وزارت دفاع کی رپورٹ سامنے آ گئی۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی کو دھرنا ختم کرنے کا ٹاسک خود حکومت نے دیاتھا، اس کے علاوہ دھرنا ختم کرانے کیلئے مرکزی کردار اور بات چیت کا مکمل اختیار دیا گیا۔

 24 نیوز ذرائع کے مطابق رپورٹر کے مطابق وزیراعظم آفس میں طویل میٹنگ کے بعد آئی ایس آئی کو دھرنا ختم کرانے کیلئے مذاکرات کا مکمل اختیار دیا گیا، دھرنے کے پیچھے آئی ایس آئی کے ہونے سے متعلق غلط کہانیاں بنائی گئیں۔ حقیقت میں معاملے کے پرامن حل کیلئے آئی ایس آئی نے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔

یہ خبربھی پڑھیں: کوئٹہ میں دہتشگردوں کا وار، 2 پولیس اہلکار شہید

رپورٹ کے مطابق سیاسی قیادت اور دھرنا قیادت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور کرائے گئے جو ناکام ہوئے، مذاکرات کی ناکامی کی وجہ وزیر قانون کے استعفے کے معاملے پر حکومت کا موقف تھا، آپریشن کی ناکامی کے بعد دھرنا قائدین کے انتہائی جذبات کے باوجود آئی ایس آئی نے انہیں مذاکرات کیلئے راضی کیا، ملک بھر سے حمایت ملنے کے بعد دھرنا قائدین پوری حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی کی طرف سے دھرنا قائدین کو اپنے اصل مطالبات تک محدود رہنے پر راضی کیا گیا، 25 نومبر کے پولیس آپریشن کی تحقیقات کا دھرنا قائدین کا مطالبہ بھی تسلیم کیا گیا، دھرنا قائدین کے عمل اور تقاریر سے متعلق انہیں بلا کر وضاحت لی جاسکتی ہے۔

پڑھنا مت بھولئے: پاک افغان دو طرفہ تعلقات، اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ گیا

رپورٹ میں یہ بھی آیا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد سیاسی رہنماوں کی بیان بازی سے معاملے کو ہوا ملی، مظاہرین کیخلاف آپریشن اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے درمیان موثر کوآرڈینشن نہ ہونے کے باعث ناکام ہوا، دھرنے کو ختم کرانے کیلئے سیاسی پلیٹ فارم کے استعمال کی آئی ایس آئی کی سفارشات کے باوجود آپریشن کیا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجسٹرار آفس کو رپورٹ کی کاپی درخواست گزار کو فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔