فیض آباد دھرنے کا معاملہ، جسٹس شوکت صدیقی فوج کے کردار پر برس پڑے

فیض آباد دھرنے کا معاملہ، جسٹس شوکت صدیقی فوج کے کردار پر برس پڑے

اسلام آباد (24نیوز) آرمی چیف کون ہوتے ہیں ثالث بننے والے؟؟ کیا آرمی چیف آئین سے باہر ہیں۔جسٹس شوکت صدیقی فیض آباد دھرنے کےمعاملے میں فوج کے کردار پر برس پڑے، ریمارکس دیئے کہ فوجی کیوں خواہ مخواہ ہیرو بنے پھرتے ہیں؟؟ جن فوجیوں کوسیاست کا شوق ہے وہ فوج چھوڑیں۔


تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس شوکت صدیقی فوج کے کردارپر برہم نظرآئے۔ ان کا کہنا کہ فوج ہمارا فخرہے مگر فوج کواپنا آئینی کردارادا کرنا چاہیئے۔

جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ جس شخص کا کورٹ مارشل ہونا چاہیئے تھا اسکو ثالث کیوں بنایا گیا؟؟ فوج کے میجر جنرل ثالث کا کردار کیسے ادا کرسکتے ہیں؟ کیا آرمی چیف آئین سے باہرہیں ،یہ تولگ رہا ہے کہ ان کے کہنے پر یہ ہوا۔

جسٹس صدیقی بولے کہ جن فوجیوں کوسیاست کرنے کا شوق ہے وہ فوج کوچھوڑیں اورسیاست میں جائیں،فوج میں ہمارے باپ بیٹے اور بھائی شامل ہیں،65ء کی جنگ میں خود فوج کے لیے جھولی پھیلا کر چندہ اکٹھا کیا۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ جمعرات تک رپورٹ دیں کہ فوج دھرنے کے معاملے پرثالث کیسے بنی ؟سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔