طیارے کی پاکستان آمد، اسرائیلی صحافی نے راز سے پردہ اٹھا دیا


اسلام آباد(24نیوز) سوشل میڈیا پرمبینہ اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد سےمتعلق مختلف افواہیں پھیل رہی ہیں،  رہنما احسن اقبال نے اپنےٹوئٹر پیغام میں واضح کیاہے کہ حکومت حقیقی صورتحال فوری طور پہ واضح کرے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پرمبینہ اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد سےمتعلق مختلف افواہوں نے سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی ہے ،مسلم لیگ (ن) کےرہنما احسن اقبال نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں واضح کیاہے کہ حکومت حقیقی صورتحال فوری طور پہ واضح کرے، جس پر وفاقی وزیر اطلاعات فوادچودھری کا درعمل سامنے آیا، انہوں نے احسن اقبال کی وضاحت پر ٹویٹ کیا اور خفیہ مذاکرات کی افواہوں کو مسترد کر دیا ،ان کا کہنا تھا کہ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ عمران خان نواز شریف ہے نہ اس کی کابینہ میں آپ جیسے جعلی ارسطو ہیں۔

href="https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1056039159159234560?ref_src=twsrc%5Etfw">October 27, 2018

وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہناتھا کہ ہم نہ مودی جی سے خفیہ مذاکرات کریں گے نہ اسرائیل سے، آپ کو پاکستان کی اتنی فکر ہوتی جتنی ظاہر کر رہے ہیں تو آج ہم ان حالات میں نہ ہوتےاس لیے جعلی فکر نہ کریں پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے جواب میں احسن اقبال نے جوابی ٹوئٹ کرتے ہو ئے کہا کہ "جس انداز میں وزیر اطلاعات محض وضاحت مانگنے پر آگ بھگولہ ہوئے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے- https://t.co/SDluVgPx8O


انہوں نے دوسری ٹوئیٹ میں مزید تفصیلات ظاہر کی ہیں ان کا کہنا ہے کہ دوبارہ طیارہ 24اکتوبر کو کوارڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم00:04پر دوبارہ ریڈار پر نمودار ہوا۔ اس وقت یہ اسلام آباد میں لینڈنگ کے لیے اپنی بلندی کم کر رہا تھا۔ اس کا ایس کیو ڈبلیو کے نمبر ابھی تک 0575ہی تھا اورٹائپ بھی وہی تھی۔ یہ 20ہزار فٹ کی بلندی پر آیا اور دوبارہ منظر سے غائب ہو گیا۔ اس کے 10گھنٹے بعد یونیورسل ٹائم کے مطابق 11:20پر یہ طیارہ دوبارہ ٹریک پر نمودار ہوا۔اس وقت یہ دوبارہ اسلام آباد سے پرواز کر چکا تھا اور اس کا رخ جنوب مغرب کی طرف تھا۔ اسی ٹریک پر یہ واپس عمان پہنچا اور پھر وہاں تل ابیب پہنچ گیا۔

تیسری ٹوئیٹ میں وہ لکھتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ یہ طیارہ کس کی ملکیت ہے،تاہم یہ آئل آف مین (خودمختار برطانوی ریاست)میں رجسٹرڈ ملٹی برڈ اوورسیز لمیٹڈ نامی کمپنی کے نام رجسٹرڈ ہے جو آف شور کمپنی ہے۔فلائٹ ریکارڈ کے مطابق یہ طیارہ تل ابیب سے آپریٹ کرتا ہے کہ تل ابیب سے مختلف ممالک کا باقاعدگی سے سفر کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اسے کاروباری مسافر چارٹر بھی کرتے ہیں۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ اسلام آباد جانے والی اس حالیہ پرواز میں اس طیارے پر سفر کس نے کیا۔“

آخری اور چوتھے حصے میں وہ لکھتے ہیں کہ ایوی شراف کہتے ہیں کہ میں 100فیصد حتمی طور پر یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ اسلام آباد میں اترا تھا، کیونکہ وہاں پہنچ کر یہ ٹریک سے غائب ہو گیا تھا (وہاں فلائٹ ریڈار24 کے ریسیورز کی کمی ہے)۔ تاہم میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ اسلام آباد میں اترا تھا کیونکہ اسلام آباد کے قریب پہنچ کر یہ اپنی بلندی 40ہزار فٹ سے کم کرکے 20ہزار فٹ پر آ گیا تھا۔ اگر یہ آگے شمال میں کشمیر یا چین کی طرف جا رہا تھا تو راستے میں بلند و بالا پہاڑ آتے ہیں جن کی اونچائی 15ہزار فٹ سے زیادہ ہے، وہاں سے گزرنے سے پہلے جہاز کی بلندی کم کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ چنانچہ اگر اسے اسلام آباد میں نہیں اترنا تھا تو اس نے اپنی بلندی کیوں کم کی۔ میں یہاں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اس طیارے کا 25 اکتوبر کو اسرائیل سے اومان جانے والی اس پرواز سے کوئی تعلق نہیں جس میں اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو خفیہ دورے پر اومان گئے تھے۔