فیصل آباد،زراعت اور صنعتوں کا شہر

فیصل آباد،زراعت اور صنعتوں کا شہر


فیصل آباد ( 24نیوز ) فیصل آباد محنت کشوں، مشقت کاروں اور کسانوں کی کاوشوں کا شہر ہے، جسے پنجاب کے دوسرے اور پاکستان کے تیسرے بڑے شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے،اس کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو رچنا دوآب کے درمیان میں پھیلا ہوا یہ شہر، ساندل بار کہلاتا تھا۔
دور قدیم میں دریائے چناب سے تیس میل کے فاصلے پر روحانی بزرگ نور شاہ ولی کی درگاہ کے ارد گرد خانہ بدوشوں کی چند ایک جھونپڑیاں ہوا کرتی تھیں ، اٹھارہ سو اسی میں برطانوی حکومت نے اس شہر میں زرعی اجناس کی پیدوار اور کاشت بڑھانے کے لیے نہریں نکالنے کا کام شرع کیا تو لودھیانہ ، جالندھر اور اموالہ کے سکھ اور مسلمان کسانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس نو آباد علاقے کا رخ کیا، اٹھارہ سو بیاسی میں ایک انگریز آفیسر نے یہاں ایک شہر بنانے کا منصوبہ بنایا۔


اٹھارہ سو نوے میں برطانوی پرچم کے مطابق اس شہر کا نقشہ بنایا گیا ، جس کے مطابق گھنٹہ گھرکے اطراف میں آٹھ سڑکیں نکالی گئیں جو بعد میں بازاروں میں تبدیل ہوئیں ، اٹھارہ سو بانوے میں شہر کو ریلوے لائن سے منسوب کرنے کا پراجیکٹ بنایا گیا، 1897 میں قیصری دروازہ اور گھمٹی کی یادگار بنیاد رکھی گئی۔


1904 میں اس شہر کا نام لائلپور رکھا گیا، 1906 میں برصغیر پاک و ہند کے پہلے کالج و تحقیقاتی ادارے کا سنگ بنیاد رکھا گیا جسے پنجاب زرعی کالج اور تحقیقاتی ادارے کے نام سے جانا گیا، 1961 میں اسے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا۔1977ء میں اس شہر کا نام شاہ فیصل کی اسلامی خدمات کے باعث فیصل آباد رکھا گیا، اس دھرتی سے کئی نامور شخصیات منسوب ہیں ، جن میں بھگت سنگھ، مرزا صاحباں ، نصرت فتح علی خان اور بزرگان دین سمیت دیگر شامل ہیں ۔