ن لیگ کی دراڑیں نواز، نثار کی 35 سالہ رفاقت تک پہنچ گئیں

ن لیگ کی دراڑیں نواز، نثار کی 35 سالہ رفاقت تک پہنچ گئیں


اسلام آباد (24 نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف اور چودھری نثارکی 35 سالہ رفاقت ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی۔

24 نیوز ذرائع کے مطابق سیاست کے کئی دور آئے اور کئی گئے۔ میاں نوازشریف اور چودھری نثار کا ساتھ کبھی نہ ٹوٹا۔ نوازشریف نے چودھری نثار کوعزت دی تو وہ بھی ہمیشہ اپنے قائد کے اعتماد پر پورا اترے۔

ڈان لیکس سامنے آئی تو اس نے ن لیگ کی صفوں میں بھی کھلبلی مچا دی۔ یہی وہ موقع تھا جب اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چودھری نثار کے دلوں میں دراڑ آ گئی اور پھرحالات کبھی سنبھل نہ سکے۔

یہ بھی پڑھئے: نواز شریف تاحیات قائد، شہباز شریف مسلم لیگ ن کے قائم مقام صدر منتخب 

میاں نوازشریف نے اپنی بیٹی مریم نواز کو سیاست میں آگے بڑھایا تو چودھری نثار کو یہ بات پسند نہ آئی جس کا انہوں نے برملا اظہار بھی کیا۔

چودھری نثار کے اس واشگاف اظہار کو نواز شریف نے سخت ناپسند کیا۔ جس پر ان کے ترجمان سمجھے جانے والے پرویز رشید نے چودھری نثار کو پارٹی چھوڑ جانے کا کہہ دیا۔

خیال تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی شہباز شریف دونوں طرف لگی آگ ٹھنڈی کر دیں گے مگر لگتا ہے اس بار وزیر اعلیٰ پنجاب بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ جس کا ثبوت چودھری نثار کو مجلس عاملہ کے اہم ترین اجلاس میں بلایا نہ جانے سے مل گیا۔

مزید پڑھئے: ’’شہبازشریف کیلئے پارٹی صدارت تنے رسے پرچلنے سے کم نہیں‘‘ 

نواز اور نثار کی یہ لڑائی اب کھل کر واضح ہو چکی ہے۔ نوازشریف جو چاہتے ہیں وہ سامنے آ گیا ہے۔ چودھری نثار اب اس پر کیا جواب دیتے ہیں، یہ بھی دیکھنے کے قابل ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 70 سے زائد قومی اسمبلی کے ممبران چودھری نثار سے رابطہ میں ہیں۔