ہالا پریس کلب،  سیاسی سماجی رہنماؤں کا احتجاجی طور علامتی بھوک ہڑتال

ہالا پریس کلب،  سیاسی سماجی رہنماؤں کا احتجاجی طور علامتی بھوک ہڑتال


کراچی(24نیوز) ہالا پریس کلب پر سیاسی سماجی رہنماؤں نے احتجاجی طور علامتی بھوک ہڑتال کی۔ سیاہ پٹیاں باندہ کر تعلیمی اسیمبلی کا انعقاد کیا گیا۔ کروڑوں روپیہ حکومتی بجیٹ ملنے کے باوجود ضلع مٹیاری کے سرکاری اسکولوں میں غیر معیاری تعلیم اور بنیادی سہولیات سے محروم بچوں کامستقبل داؤ پر۔ اسمبلی نے کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو ذمہ دار قرار دیدیا۔

 تفصیلات کے مطابق ہالا پریس کلب پر تعلیمی اسمبلی لگائی گئی جس میں سیاسی سماجی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے آنکھوں پہ سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھی۔

 اسیمبلی میں فنکشنل لیگ کے صوبائی رہنما نصیر میمن، جماعت اسلامی کے فقیر محمد، سول سوسائٹی کے ایاز میمن، عبدالرشید ڈیتھو، رحمت اللہ بلال دیگروں نے محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے افسران کو  ذمہ دار قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کےسال2017 -18 کی 22کروڑ حکومتی بجیٹ کے باوجودضلع مٹیاری کے سرکاری اسکولوں کی حالت خراب ہے۔

 جبکے گذشتہ دس سالوں میں اسکولوں پر دو ارب روپیے خرچ کئے جاچکے ہیں جو کے حکام کی عدم توجہی کے باعث کرپٹ افسران کی کرپشن کے نذر ہوگئے ہیں جس کے باعث 385 سرکاری اسکول زبون حالی ہیں۔

280 اسکولوں کا سیوریج نظام ناکارہ ہونے کے ساتھ پینے کے پانی کی سہولیت میسر نہیں ہے243 اسکولوں کو دیواریں نہیں۔ 315 اسکولوں کو بجلی فراہم نہیں ہے انہوں نے الزام عائد کیا کے ہالاکے سرکاری بوائز ہائی اسکول میں دورومز کے تعمیراتی کام میں محکمہ ایجوکیشن ورکس کے افسران کی جانب سے لاکھوں روپیہ کی کرپشن کی گئی ہے۔

 انہوں نے صوبائی وفاقی تحقیقاتی اداروں اور وزیر اعلا سندہ دیگر بالا حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔