پاکستان ہے تو ہم ہیں پاکستان کے بغیر ہم کچھ نہیں: چیف جسٹس ثاقب نثار

پاکستان ہے تو ہم ہیں پاکستان کے بغیر ہم کچھ نہیں: چیف جسٹس ثاقب نثار


لاہور(24نیوز) جوڈیشل اکیڈمی سے خطاب کے دوران چیف جسٹس پاکستان کہنا تھا کہ میں نے بہت سے شعبوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی لیکن شاید میں وہ سب کچھ نہیں کرسکا جو کرنا چاہتا تھا، بدقسمتی سے آج بھی عدالتی نظام میں برسوں پرانے طریقے رائج ہیں، آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ہم پٹواری کے محتاج ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کوشش کے باوجود اپنے ہاؤس کو ان آرڈر نہیں کرسکا۔ مجھے اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے۔ بار صرف ایک حصہ ہے عدالتی نظام میں تبدیلی بتدریج آتی ہے۔ عدالتی نظام میں بہت سی اصلاحات کرنا ضروری ہیں۔ بعض اوقات قوانین میں تبدیلی کے باوجود بہت سے نتائج حاصل نہیں کیےجاسکتے۔

 ہم دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق قوانین میں ترامیم نہیں کرسکے۔ جج صاحبان کو بھی اپنے اندر فوری انصاف فراہم کرنے کا جذبہ پیداکرنا ہو گا۔ جب تک قانون پر عملداری کا جذبہ نہیں ہوگا اس وقت تک بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ ہمیں بطورایک ادارہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ کسی جج کواپنی غلطی کااحساس ہوجائےتووہ اگلےدن اس کامداوا کرے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں۔۔۔نواز شریف کی طبیعت اب کیسی ہے؟ 

 چیف جسٹس پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان دھرتی ماں ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں پاکستان کے بغیر ہم کچھ نہیں۔ یہ ملک ہمیں کسی نے تحفے میں نہیں دیا بلکہ بہت قربانیوں سے حاصل ہوا۔ ہمیں ایک جگہ جم کر نہیں کھڑے رہنا بلکہ آگے بڑھنا ہے۔ دیکھیں کہ ہم نےاپنی ماں کی کیا خدمت کی۔ آج ہر پیدا ہونا والا بچہ ایک لاکھ  70 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ ملک میں پانی کی قلت ایک بین الاقوامی سازش ہے۔ پانی کا مسئلہ مجرمانہ غفلت ہے۔ پانی کی کمی کا مسئلہ متعلقہ اداروں کی نااہلی کے باعث ہوا۔ ہم سب کو ڈیم بنانے کے لیے بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے۔