اسحاق ڈار ایک بار پھر فرد جرم سے بچ گئے

اسحاق ڈار ایک بار پھر فرد جرم سے بچ گئے


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس پر سماعت ،ضمنی ریفرنس میں نامزد شریک ملزمان پر آج بھی فرد جرم عائد نہ ہوسکی ،،عدالت نے ملزم صدر نیشنل بینک سعید احمد خان کا دو روز کا حاضری سے استثنیٰ منظور کرلیا،،عدالت نے قراردیا ہے کہ تینوں پر اکھٹی فرد جرم عائد ہو گی۔ عدالت نے ملزمان کو آئندہ سماعت پر دس دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔
احتسا ب عدالت کے جج محمد بشیرنے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس پر سماعت کی۔ضمنی ریفرنس میں نامزد شریک ملزمان پر آج بھی فرد جرم عائد نہ ہوسکی ،،ملزم نعیم محمود اور منصور رضا عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ملزم صدر نیشنل بنک سعید احمد غیرحاضرتھے۔عدالت نے ا ملزم صدر نیشنل بینک سعید احمد خان کا دو روز کا حاضری سے استثنیٰ منظور کرلیا۔
نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملزم سعید احمد کی درخواست مسترد ہوچکی ہے۔ سعید احمد کےوکیل نے کہا کہ حکم نامے کی کاپی ملی نہیں تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ درخواست مسترد ہوگئی،۔نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ ہم کوشش کرتے ہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نامہ تین بجے تک لے آئیں،نیب پراسیکیوٹرکا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف وقت کا ضیاع اور تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں ملزم کے وکیل نے کہا کہ سماعت پیر تک ملتوی کریں ۔
جج محمد بشیرکا کہنا تھا کہ آپ بے شک نہ آئیں لیکن ملزم 30مارچ کو پیش ہوجائے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات ہیں کیس کو تین ماہ میں مکمل کرنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ تینوں ملزمان پر اکٹھی فرد جرم عائد ہو گی۔ عدالت نے ملزمان کو آئندہ سماعت پر دس دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 30مارچ تک ملتوی کردی۔

 یہ بھی ضرور پڑھیئے:عدالت کے ”پاﺅں پڑنا“ ہاشمی کو راس آگیا
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ا?مدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا، سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔
گذشتہ برس 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے ا?مدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔