پنجابی فلمیں اِن، اردو آؤٹ ہونے لگیں

پنجابی فلمیں اِن، اردو آؤٹ ہونے لگیں


اسلام آباد(24نیوز) اردوفلموں میں بھی پنجابی کے تڑکے دیکھنے والوں کوسینماکی طرف کھینچنے لگے۔ فلم انڈسٹری میں سلمان خان اورشاہ رخ کا دور ختم ہوتا نظرآنے لگا۔

سکرین بڑی ہویا پھرہوچھوٹی، فلم بینوں کے مزاج بدلنے کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔ ابھی کچھ برس ہی پیچھے چلے جائیں توانڈین اردوفلمیں پورے برصغیرمیں فلموں بینوں کی توجہ کامرکزہوا کرتی تھیں لیکن اب یہ رجحان پنجابی فلموں نے بالکل بدل کررکھ دیا ہے۔

دونوں زبانوں کی فلموں کاتقابلی جائزہ لیں توویسے عام آدمی توچکرا کے ہی رہ جاتا ہے کہ پروڈیوسرزنے آخر گیم کیا ڈالی ہے کہ اردوفلموں کوآج کل لوگوں نے منہ لگانا کم کردیا ہے۔ پنجابی فلم ہو تولوگ مزے سے دیکھتے ہیں۔ انجوائے کرتے ہیں اورہلہ گلہ کرتے ہیں۔ کیابڑے کیا بچے، فیملیزتوگھروں کوتالے لگاکرسینمامیں امڈآتی ہیں۔

پنجابی فلموں کے ہیروزامرندر گل، ایمی ورک، گیپی گریوال، امبر دیپ سنگھ بالی ووڈ ہیروز کے مقابلے میں مقبولیت حاصل کر تے جارہے ہیں۔ یہی نہیں پنجابی ڈائیلاگ کے تڑکوں اور پنجابی گانوں نے بھی اردوفلموں کی جیسے کمرہی توڑکررکھ دی ہو۔

بڑے پردے پر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والی فلموں میں رب دا ریڈیو، انگیرج،لانگ لاچی ، بمبو کا ٹ نے توجیسے فلم بینوں کوپکڑکرپنجابی کی طرف دھکیل دیا ہوکہ بس اب اردونہیں، پنجابی ہی چلے گی۔