”یہ تو بلی سے دودھ کی رکھوالی کرانے والی بات ہے“

”یہ تو بلی سے دودھ کی رکھوالی کرانے والی بات ہے“


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر)محمد صفدر کے ساتھ احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش ہوئے ،انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں اپنے خلاف چلنے والے مقدمہ کو مضحکہ خیز قرار دغ دیا۔
احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میرے اٹک قلعہ میں طیارہ ہائی جیک اور اس کیس میں موقف ایک ہی ہے، 1999 میں نکالے جانے کی وجوہات یہی تھیں اور آج بھی یہی ہیں، مجھے ہائی جیکنگ پر سزا سنائی گئی، وہ ایسا ہی ہے جیسے آج تنخواہ پر فارغ کیا گیا، قوم طیارہ ہائی جیک کیس کو مانتی ہے اور نہ ہی موجودہ کیس کو، 70سال گزر گئے لیکن کچھ عرصہ اور لگے گا، میرے بیانیے اور موقف کی ہی جیت ہوگی اور فتح کے علاوہ دوسری کوئی منزل نہیں ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جس نے کام کیا، دوسری جماعتوں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، وہ اپنے کسی منصوبے کا بتائیں اور خود عمران خان بتائیں آج تک کون سا منصوبہ مکمل کیا ہے، کارکردگی مرکز کی ہی ہے جس نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، سی پیک لائے، بڑے بڑے موٹر ویز بنائے، مولانا فضل الرحمان سے پوچھیں کہ ڈی آئی خان میں کتنی تیزی سے موٹر وے بن رہی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام، قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ نے توثیق کردی

نگراں وزیراعظم سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے لئے ہم نے اچھے نام دیے، ہم ایسا نام نہیں دے سکتے جسے عوام قبول نہ کرے، نگراں وزیراعظم ایسا ہو جسے قوم بھی کہے اچھا نام ہے، بلوچستان اور کراچی کا امن ہم نے ٹھیک کیا، بھتا خوری کی وارداتیں ختم ہوئیں جب کہ رمضان المبارک میں 22،22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی لیکن آج 45 اور 47 ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی بجلی دے رہے ہیں، ہمیں وقت ہی کتنا ملا، 2014 کے دھرنے کے بعد 2016 تک کام کیا اور پھر پاناما شروع ہوگیا، ہمیں کام کے لئے صرف ڈیڑھ دو سال ملے، اگر پورے 5 سال ملتے تو اور کام کرتے۔
خیبرپختونخوا کے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے منظور آفریدی کا نام سامنے آنے سے متعلق نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف کے سینیٹر کے بھائی کو آپ وزیراعلیٰ بنا رہے ہیں، یہ تو بلی سے دودھ کی رکھوالی کرانے والی بات ہے،سابق وزیراعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں برطانوی نشریاتی ادارے کا آرٹیکل بھی پڑھ کر سنایا۔

                                                                                                    کبھی بھی لندن فلیٹس یا کمپنیوں کی بینیفشل مالک نہیں رہی، مریم نواز

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز آج مسلسل تیسری سماعت پر اپنا بیان قلمبند کرارہی ہیں اور وہ عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 میں سے 84 سوالات کے جواب دے چکی ہیں۔  مریم نواز نے بیان قلمبند کرانے کے دوران کہا کہ موزیک فونسیکا کا 22 جون 2012 کا خط پرائمری دستاویز نہیں جب کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کا پیش کیا گیا 3 جولائی 2017 کا خط بھی بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا کیوں کہ پرائیویٹ فرم کے خط میں کوئی حقیقت نہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ یہ خط براہ راست جے آئی ٹی کو بھیجا گیا جو کہ قانون کے مطابق نہیں، خط میں درج دستاویزات پیش نہیں کی گئیں اور جس طرح یہ خط پیش کیا گیا اس کی ساکھ پر سنجیدہ شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ مریم نواز نے اعتراض اٹھایا کہ خط لکھنے والے کو پیش کیے بغیر مجھے میری جرح کے حق سے محروم کیا گیا تاکہ میں خط کے متن کی تصدیق نہ کر سکوں اور جرح کا موقع نہ دے کر شفاف ٹرائل کے حق سے محروم کیا گیا۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مریم اپنے دفاع میں بطور گواہ بلانا چاہیں تو بلالیں جس پر مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا پڑے گا کہ غیر ملکی گواہ کو بلایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کی دستاویز میرے متعلق نہیں، یہ دستاویزات مذموم مقاصد کے تحت پیش کی گئیں جب کہ استغاثہ کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات قابل قبول شہادت نہیں، فرد جرم کے مطابق یہ مکمل طور پر غیر متعلقہ دستاویزات ہیں۔خط پر انحصار شفاف ٹرائل کے خلاف ہوگا، اس خط کے متن سے ہمیشہ انکار کیا ہے، میں کبھی بھی لندن فلیٹس یا ان کمپنیوں کی بینیفشل مالک نہیں رہی، ان کمپنیوں سے کبھی کوئی مالی فائدہ لیا نہ کوئی اور نفع۔