ریفری کے فرائض انجام دینے والی پہلی مسلم خاتون


(24نیوز) خواتین ہر شعبے میں اپنا مقام بنا رہی ہیں  لیکن اب صومالیہ نژاد برطانوی لڑکی تاریخ میں پہلی فٹ بال ریفری بن گئی ہیں ، لیکن حجاب اس کے سر سے نہیں سرکتا۔
سر پر حجاب ، جسم پر مکمل لباس  یہ ہےپہلی مسلمان لڑکی جو دنیا کی تاریخ میں پہلی بار فٹ بال میچ میں ریفری کے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔صومالیہ نژاد برطانوی خاتون جواہر روبل کو لوگ جے جے کے نام سے جانتے ہیں،  جے جے مرد کھلاڑیوں کے ساتھ ان کی رفتار سے ہی دوڑتی ہے اور ان کے ہر فاؤل پر عقابی نظر رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی

جواہر کہتی ہے کہ شروع شروع میں تو اسے بہت مشکل پیش آئی، کھلاڑی میں حوصلہ شکنی کرتے تھے لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔جواہر کہتی ہے کہ اسے اپنے مذہب سے پیار ہے، اسلام ایسا نہیں جیسا اس کے خلاف پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ امید ہے اسے دیکھ کر اور بھی مسلمان لڑکیاں ایسے شعبوں میں آئیں گی۔
کلب کوچ اور انتظامیہ کو بھی جواہر کے حجاب پہن کر ریفری بننے پر کوئی پریشان نہیں۔جواہر برطانیہ کی فٹ بال ایسوسی ایشن کی تربیت یافتہ ریفری ہیں، اور ان کی نظر چیمپئنز لیگ کے مقابلوں میں ریفری بننے پر ہے۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔