حلقہ بندیاں کرنے کے لیے پانچ ماہ کا وقت درکار ہوگا: الیکشن کمیشن


اسلام آباد(24نیوز): سینٹ سے آئینی ترمیم منظور نہ ہونے کے بعد آئندہ الیکشن تاخیر سے ہونے کے خدشات بڑھتے جار ہے ہیں۔ ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیاں کرنے کے لیے پانچ ماہ کا وقت درکار ہوگا۔

دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات وقت پر ہوں گے یا نہیں، سوالیہ نشان لگ گیا۔ سینٹ سے آئینی ترمیم نہ ہونے کی وجہ سے حلقہ بندیوں شروع کرنے کے حوالے کام شروع نہیں ہو سکا۔ ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کروانا آئینی ذمہ داری ہے۔ الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل

51/5 کے تحت مردم شماری کے بعد صوبوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم آئین ذمہ داری ہے۔

حلقہ بندیوں کے لیے الیکشن کمیشن کو پانچ ماہ کا عرصہ درکار ہے قانون کے تحت الیکشن کی تیاریوں کی رپورٹ اپریل دو ہزار اٹھارہ تک پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہے۔ ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کہ مارچ کے آخری ہفتے میں ریٹرننگ آفیسرز اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز کی تعیناتی عمل میں آنی ہے۔ مئی میں انتخابی فہرستیں منجمد ہو جائیں گی۔ الیکشن کمیشن آرٹیکل دو سو اٹھارہ کے تحت صاف و شفاف انتخابات کروانے کا پابند ہیں۔