ناصرعباس شیرازی کیس کی سماعت، ہائیکورٹ کا ایجنسیوں کو بازیابی کا حکم


 لاہور (24 نیوز): لاہور ہائیکورٹ میں ڈپٹی سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم ناصرعباس شیرازی کی بازیابی کیس کی سماعت ، عدالت نے متعلقہ ایجنسیوں کو ناصر عباس شیرازی کو بازیاب کرکے چار دسمبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا، دوسری جانب ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی صوبائی صدر علامہ مبارک علی موسوی نے ناصر شیرازی کی عدم بازیابی پر 10 دسمبر کو پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔

 

لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس قاضی محمد امین احمد نے علی عباس کی درخواست پر ایک ہی روز میں دو مرتبہ سماعت کی، عدالت میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شان گل، ایس پی صدر رضوان گوندل سمیت دیگر پولیس افسران پیش ہوئے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شان گل نے بتایا کہ ناصرعباس شیرازی پولیس کی تحویل میں نہیں ہے۔

 

درخواستگزار نے اب وفاقی سیکرٹری داخلہ کو فریق بنا کر ترمیمی درخواست دائر کی ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت ایک بجے تک ملتوی کرتے ہوئے ایم آئی، آئی ایس آئی اور آئی بی کے ڈائریکٹرز کو طلب کرلیا۔ دوبارہ شروع ہونے پر ایم آئی کے کرنل احمد پیش ہوئے، عدالت نے تمام ملکی ایجنسیوں کو مربوط انداز میں لاپتہ ناصر عباس شیرازی کو بازیاب کرا کے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

 

دوسری جانب شادمان لاہور میں واقع ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ میں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مبارک علی موسوی کا کہنا تھا کہ ایک ماہ گزر جانے کے باوجود حکومت پنجاب اور لاہور پولیس ناصر شیرازی کی بازیابی میں دلچسپی لیتی نظر نہیں آرہی۔ علامہ مبارک علی موسوی کا کہنا تھا کہ ملت تشیع نے مجبور ہوکر سید ناصر عباس شیرازی کی بازیابی کی لیے 10 دسمبر کو پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنے دیا جائے گا جو سید ناصر شیرازی کی بازیابی تک جاری رہے گا۔

 

عدالتی احکامات کے باوجود ناصر شیرازی کی بازیابی میں دانستہ تاخیر ملت تشیع کے اضطراب میں اضافے کا باعث ہے، پنجاب حکومت کے ہاتھوں اغوا ہونے والے مذہبی رہنما سے لاعلمی کا اظہار بدنیتی کے سوا اور کچھ نہیں۔

 

پریس کانفرنس میں مرکزی صوبائی صدر علامہ مبارک علی موسوی، مرکزی سیکرٹری سید اسد عباس نقوی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔