پاکستان کا سب سے بڑا شہر بچوں کیلئے غیر محفوظ بن گیا

پاکستان کا سب سے بڑا شہر بچوں کیلئے غیر محفوظ بن گیا


کراچی ( 24نیوز ) کراچی میں رواں سال کے دوران بچوں کے اغوا اور گمشدگی کے واقعات کب اور کہاں رپوٹ ہوئے؟نئے انکشاف نے انتظامیہ کی نیندیں حرام کردیں۔
تفصیلات کے مطابق ریحان کو 26 اگست کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور مار کر پھینک دیا گیا ،ٹھیک ایک ماہ بعد اسی بچے کی تشدد زوہ لاش سائٹ سپر ہائی وے سے ملی،جس کے جنازہ اٹھا تو ہر آنکھ چھلک رہی تھی۔
پچیس ستمبر کو چھ سالہ حذیفہ کو نیو کراچی بلال کالونی سے موٹر سائیکل سواروں نے اغوا کیا،مکینوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد حذیفہ کو اغوا کار لیاقت آباد چھوڑ کرچلے گئے،دو سالہ الیاس کی ایوب گوٹھ نالے سے لاش ملی، گمشدگی کا مقدمہ سہراب گوٹھ تھانے میں درج تھا۔
نیپیر کے رہائشی فلیٹس کی تیسر ی منزل سے آٹھ ماہ کی فائزہ کو نامعلوم افراد اس کی ماں سے چھین کر فرار ہوئے،پولیس کو تحقیقات میں واقعے کا کوئی عینی گواہ نہیں ملا،پندہ ستمبر کو ملیر سے بارہ سالہ حسنین گھر کے قریب سے لاپتہ ہوا،جو رات گئے مل گیا۔
دو اگست کو مومن آباد میں بھائی بہن لاپتہ ہوئے جو رات گئے اورنگی ٹاون کے ایک پارک میں سوتے ہوئے ملے، والدین کے تشدد کے خوف سے بھاگ گئے تھے۔دو اگست کو لائیز ایریا کی سات سالہ بشریٰ کو اسکول جاتے ہوئے اغوا کیا گیا جنہیں نامعلو م افرادصدر میں چھوڑ گئے۔
اینٹی وائلنٹ کرائم کرائم سیل کے مطابق رواں سال کراچی سے آٹھ بچوں کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا،پولیس کے مطابق رواں سال 146بچیوں کی گمشدگی رپوٹ ہوئی جن میں سے 128مل چکے ہیں۔ 17 کیسز پر اب بھی کام کیا جارہا ہےاس حوالے سے وومن پولیس اسٹیشن میں چائلڈ پروٹیکشن سنیٹرقائم کردیاگیاہے۔