حکومت پنجاب اور پیرآف سیال کے درمیان مذکرات ناکام

حکومت پنجاب اور پیرآف سیال کے درمیان مذکرات ناکام


سرگودھا (24 نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی قائم کردہ دورکنی کمیٹی کے مذاکرات پیرآف سیال شریف سے ناکام ہو گئے۔

 تفصیلات کے مطابق 8جنوری کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا دورہ سیال شریف طے ہو چکا تھا جس میں شہباز شریف خود حمید الدین سیالوی سے ملاقات کر کے ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرتے۔

24 نیوز کے مطابق سعودی عرب روانگی کے موقع پر وزیر اعلیٰ نے وزیر مملکت پیر امیر الحسنات شاہ اور غلام محمد سیالوی سے ایئر پورٹ پر ملاقات کر کے انہیں خصوصی ٹاسک سونپا تھا کہ خواجہ حمید الدین سیالوی سے رابطہ کر کے رانا ثناءاﷲ کے استعفیٰ کے علاوہ ان کی ہر شرط پوری کرنے کے لیے تیار تیار رہنے کو کہا تھا۔

وزیر اعلیٰ کی تشکیل کردہ کمیٹی نے جب پیر آف سیال شریف کی مذاکراتی کمیٹی سے بات چیت کی تو انہیں باور کرایا گیا کہ رانا ثناءاﷲ کے استعفیٰ کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ چونکہ خود وزیر اعلیٰ پنجاب نے خواجہ حمید الدین سیالوی کو ٹیلی فون کر کے چند یوم کی مہلت مانگی تھی کہ وہ رانا ثناءاﷲ کا استعفیٰ لے کر سیال شریف آئیں گے لیکن وزیر اعلیٰ نے حمید الدین سیالوی سے وعدہ خلافی کی۔

 اس نئی صورتحال کے بعد خواجہ عطاءاﷲ تونسوی نے تحفظ ختم نبوت کانفرنس 31 دسمبر کو تونسہ شریف میں منعقد کرنے کا اعلان کر کیا جبکہ 4 جنوری کو داتا دربار لاہور سے پنجاب ا سمبلی تک ریلی نکالنے کا بھی ا علان کر دیا۔

ناموس رسالت کے سلسلہ میں ملک بھر کے درجنوں گدی نشین سینکڑوں علمائے مشائخ اور لاکھوں عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم متحد ہو چکے ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ رانا ثناءاﷲ استعفیٰ دیں اور تحفظ ختم نبوت بل کی چھیڑ خانی کی جسارت کرنے والے پس پردہ افراد کو سامنے لایا جائے ورنہ ملک گیر احتجاج جاری رہے گا۔