سپریم کورٹ کا 35000 پلاٹوں سے قبضے ختم کرانے کا الٹی میٹم

سپریم کورٹ کا 35000 پلاٹوں سے قبضے ختم کرانے کا الٹی میٹم


کراچی(24نیوز)  سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے ڈی پر سخت برہم،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ڈی جی کے ڈی کی طبیعت ہی خراب رہتی ہے، اگر کام نہیں کرسکتے تو چھوڑ دیں اور کسی اور کو کام کرنے دیں ، شہر کو چائینہ کٹنگ سے برباد کردیا ہے،عدالت نے درخواست گزار خاتون کو بھی پلاٹ دو ہفتوں میں دینے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری, کراچی کے رفاعی پلاٹس پر قبضے کے کیس کی سماعت،جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی کے ڈی اے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی زمینوں پر قبضہ ہورہا ہے, آپ لوگوں کو کوئی شرم یا احساس ہے، یہ شہر انسانوں کے لئے ہے یا جانوروں کے رہنے کے لئے،شہر کی خالی زمینیں سیاستدانوں, سرکاری افسران اور رشتہ داروں کو بیچنے کے لئے نہیں، لوگوں کہ سہولت کے لئے چھوڑی گئی تھیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ شہر میں حکم کے باوجود بل بورڈز کے کھمبے لگے ہیں،،تاریخی مہٹہ پیلس سے متصل پارک میں دیوار کیسے کھڑی کی گئی۔

ڈی جی کے ڈی اے معاملے میں لاعلم دکھائی دیئے تو عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو سب پتا ہے, اگر نہیں پتہ تو پھر ڈی جی کس کام کے؟جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ رفاعی پلاٹ پر نزیر حسین یونیورسٹی کیسے بنی،عدالت نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ 35ہزار پلاٹس کو قانونی شکل کے ڈی افسران کی معاونت سے ہوئی،عدالت نے شہر کو اصل ماسٹر پلان کے مطابق بحال کرنے کی بھی ہدایت کی جبکہ حکم دیا کہ درخواست گزار خاتون کو پلاٹ دو ہفتوں میں واپس دیئے جائیں۔