فلیگ شپ ریفرنس:وضاحت جعلی،منی ٹریل غلط

فلیگ شپ ریفرنس:وضاحت جعلی،منی ٹریل غلط


اسلام آباد( 24نیوز ) فلیگ شپ ریفرنس میں نیب نے شہادتیں مکمل ہونے کا بیان دے دیا،العزیزیہ ریفرنس میں حتمی دلائل جاری ہیں،نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ ملزمان کی وضاحت جعلی اور منی ٹریل غلط نکلی، نوازشریف احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ریفرنس کی سماعت کی،سابق وزیراعظم نوازشریف پیش نہیں ہوئے،ان کے وکیل نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔

ڈپٹی پراسکیوٹرجنرل نیب سردار مظفر نے فلیگ شپ ریفرنس میں شہادتیں مکمل ہونے کا بیان دیا،جس کے بعد نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے العزیزیہ سٹیل ملز یفرنس میں حتمی دلائل کا آغاز کیا،نیب پراسیکیوٹرنے اسے وائٹ کالرکرائم کا مقدمہ قراردیتے ہوئے کہاکہ بڑے منظم طریقے سے جرم کیا گیا۔

سپریم کورٹ میں کیس آنے سے پہلے ملزمان نے بیرون ملک اثاثے ظاہرنہیں کیے،ملزمان کی وضاحت جعلی نکلی اور منی ٹریل غلط ثابت ہوئی،ملزم نے بے نامی دارکے ذریعے اثاثے چھپائے،2010 سے2017 تک نوازشریف کو187بلین کی رقم بیرون ملک سے بھیجی گئی،حکمرانوں کے پاس اتنی زیادہ دولت اکٹھی ہوتوسوال پوچھا جاتا ہے۔

جج ارشد ملک نے کہاکہ یہاں بھی توجواب ہی دیا ہے،کیا نیب نے رقوم کومنجمد کیا؟؟یا کچھ بھی نہیں کیا جو یہ رقوم اب بھی بینک میں موجود ہیں؟نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اکاو¿نٹس منجمند نہیں کیے تاہم اب ان کاو¿نٹس میں بہت کم رقوم پڑی ہے،انہوں نے ٹیکس ریکارڈ،بینک اکاو¿نٹس اورمہران رمضان ٹیکسٹائل کے ریکارڈ سے متعلق گواہوں کے بیانات کی تفصیلات سے بھی عدالت کو آگاہ کیا۔