گرفتار اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نیب پر برس پڑے


لاہور(24نیوز) آشیانہ اسکینڈل میں گرفتار شہباز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی ہوئی ، نیب کی طرف سے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست  کی گئی ، حمزہ شہباز بھی کمرہ عدالت میں موجود  تھے ،لیگی کارکنوں کو احاطہ عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آشیانہ اسکینڈل میں گرفتار شہباز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میرا کیا جرم ہے؟ خدمات کا یہ صلہ دیا جا رہا ہےپہلے مجھے صاف پانی میں بلایا پھر آشیانہ کیس میں ملوث کرلیا گیا،بیرون ملک سے کینسرکی سرجری کرائی گئی تھی میرا  بلڈٹیسٹ بھی  نہیں کرایا گیا،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی  فیملی سے بھی ملنے نہیں دیا جارہا ، فیملی سے ملاقات کرنا میرا حق ہے اور مجھے اجازت دی جائے، مجھے صاف پانی کیس میں بلایا گیا مگر آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں ملوث کر کے مجھے گرفتار کیا گیا اور اب نیب میر ے خلاف زائد اثاثوں کا کیس بنانے کی تیاری کر رہی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب عدالت میں غلط بیانی کررہی ہے، نیب  نے میرے خلاف قوم کو گمراہ کیا ، نیب نے جو صاف پانی کمپنی کا لزام لگایا ان الزامات کا صفایا بھی کر دیا،نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف غلط بات کر رہے ہیں، وہ دومرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں ، شہباز شریف کا کہنا تھا  میں دو نہیں تین مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکا ہوں ، پراسیکیوٹر  نےکہاکہ ان کو جواب دینے کی بجائے سوال کرنے کی عادت ہے، عدالت شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں پندرہ روز کی تو سیع کر ے، جس پر احتساب عدالت نے شہباز شریف کو پندرہ کی بجائے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کے ساتھ 3 روز کا راہداری ریمانڈ بھی دے دیا۔

قبل ازیں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو سخت سیکورٹی حصار میں عدالت لایا گیا، نیب کی جانب سے نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ عدالت میں پیش ہوں گے، شہباز شریف کی جانب سے ان کے وکیل امجد پرویز نےدلائل دیے، نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ سابق وزیر اعلی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، شہباز شریف نے آشیانہ اقبال کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کر کے کاسا ڈویلپرز کو دیا، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچا، شہباز شریف سے مزید تفتیش درکار ہے نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے احتساب عدالت سے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 15 روز کی توسیع کی استدعا کی گئی تھی۔

احتساب عدالت کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی،اس دوران لیگی کارکنوں اور پولیس میں ہاتھا پائی بھی ہوئی اور پولیس نے لیگی کارکنوں کو پیچھے دھیکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا،واضح رہے کہ نیب لاہور نے 5 اکتوبر کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا، تاہم پیشی پر انہیں آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔