شادی کی عمر بڑھانے کا بل منظور

شادی کی عمر بڑھانے کا بل منظور


 اسلام آباد( 24نیوز )سینیٹ کمیٹی انسانی حقوق نے شادی کی عمر کی حد 16 سے بڑھا کر اٹھارہ سال کرنے کا بل منظور کر لیا،بل مزید بحث اور منظوری کیلیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا،سینیٹر شیری رحمان کہتی ہیں کہ بل کا مقصد کم عمری میں شادیوں کو روکنا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے چیئرمین سنیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی صدارت میں کمیٹی نے بچوں کی شادی کی عمر کی حد اٹھارہ سال کرنے سے متعلق بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا،بل پیش کرتے ہوئے سینیٹر شیرحمان نے کہاکہ بل پیش کرنے کا مقصد چائلد میرجز کو روکنا ہے،انھوں نے کہاکہ بچے اور بچیوں کو زیادہ وقت پڑھنے کیلئے دیا جائے، بل سندھ اسمبلی سے پہلے ہی منظور ہوچکا ہے دیگر صوبے بھی اس بل کو متعلقہ اسمبلیوں سے منظور کراسکتےہیں۔

بل پر بحث کرتےہوئے سینیٹر مظفر حسین شاہ نے کہا کہ اس معاملے پر قرآن و شریعہ کے مطابق ترمیم کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی مشاورت لی جائے،سینیٹر عثمان کاکڑ نے بھی بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاشرے میں تو چالیس دن یا پانچ سال کی بچیوں کا بھی نکاح کردیا جاتا ہے، کم عمر بچیوں کو معاشرتی مجبوریوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، شادی کے لئے اٹھارہ سال عمر کا قانون پارلیمنٹ سے منظور ہونا چاہیے،سینیٹر ثنا جمالی نے بھی کہا کہ کم سن عمر میں بچیوں کی شادی کو روکا جائے۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت کو اٹھارہ سال شادی کی عمر کی حد مقرر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، بل کابینہ کی منظوری کے لئے بھجوا دیا گیا ہے اور آئندہ ماہ پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش کردیا جائے گا۔

انسانی حقوق کمیشن اور کمیٹی ارکان نے بل کی حمایت کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ چیرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ کم عمری میں شادیاں معاشی معاشرتی مسائل پیدا کرتی ہیں، وفاق سے صوبوں کو اچھا پیغام جاِئے گا۔