نواز شریف اڈیالہ جیل سے پمز منتقل


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نواز شریف کو اچانک اڈیالہ جیل سے ہسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے،طبیعت کی خرابی کے باعث ڈاکٹروں کی ہدایت پر اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال لایا گیا جہاں ان کو کارڈیک سینٹر کے پرائیویٹ وارڈ میں رکھا گیا ہے جسے سب جیل قرار دے دیا گیا ہے،انہیں جس کمرے میں رکھا گیا ہے وہ” صدارتی کمرے “کے نام سے بھی مشہور ہے۔
ہسپتال میں جیل خانہ جات پولیس کے ایس پی کی سربراہی میں 10 اہلکار بھی نواز شریف کے ساتھ رہیں گے،ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نے پہلے پمز ہسپتال منتقل ہونے سے انکار کر دیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں نےہسپتال منتقل ہونے پر آمادگی ظاہر کی، نواز شریف کی درخواست پر جیل انتظامیہ نے سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو جیل بلایا۔

 یہ بھی پڑھیں:  نواز شریف کی طبیعت بگڑنے لگی، پمز ہسپتال منتقل کیے جانے کا امکان
ڈاکٹر عدنان اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم کا مکمل طبی معائنہ کیا اور پھر ان کی تجویز کی روشنی میں نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا،سابق وزیراعظم نواز شریف کو اتوار کی رات 8 بجے کے قریب سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز پہنچایا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں:   الیکشن 2018: کونسی پارٹی کو کتنے ووٹ ملے؟
پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے سابق وزیراعظم کو اسپتال میں ریسیو کیا اور نواز شریف کے داخلے کے بعد کارڈیک سینٹر میں عام مریضوں کا داخلہ بند کر دیا گیا،ہسپتال میں شعبہ امراضِ قلب کے سربراہ ڈاکٹر نعیم ملک نے نواز شریف کا طبی معائنہ کیا اور بلڈ ٹیسٹ، شوگر لیول اور معمول کے ٹیسٹ کیے گئے۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم کے خون کی ٹیسٹ رپورٹ میں ٹروپونن کی زیادتی تھی اور ٹروپونن ہائی ہونے پر انہیں اکیوٹ کورنری سینڈروم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا تھا، نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم کی کہنیوں اور پاوں میں درد تھا اور سوجن بھی تھی، رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا عارضہ بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔
یاد رہے تحریک انصاف کے اعلامیے کے مطابق پارٹی چیئرمین عمران خان نے نواز شریف کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کی ہے۔

ویڈیو بھی دیکھیں: