انٹرنیٹ منشیات کی فروخت کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا

انٹرنیٹ منشیات کی فروخت کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا


اسلام آباد(24نیوز) انٹرنیٹ کے جہاں فائدے ہیں اس برعکس بڑے نقصانات بھی ہیں،جرائم پیشہ لوگ بھی اپنے کاروبار کیلئے اس ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں،اقوام متحدہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے منشیات فروشی کے بارے میں چونکا دینے والی رپورٹ پیش کی ہے۔

 اقوام متحدہ کی عالمی رپورٹ کے مطابق 71 رکن ممالک میں منشیات پکڑنے کے 25 لاکھ کیسز ہوئے جن میں ترتیب وار گانجا، ہیروئن اور کوکین پکڑی گئی۔ سپین کے بعد پاکستان اور مراکش ایسے ممالک ہیں جہاں سب سے زیادہ گانجا پکڑا گیا۔اسی طرح سب سے زیادہ ہیروئن افغانستان اور اس کے بعد پاکستان اور ایران سے قبضے میں لی گئی جو دونوں افغانستان کے پڑوسی ممالک ہیں۔

عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں نشے کی بے راہ روی کے شکار افراد کی تعداد تین کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ سنہ2017 میں منشیات کے استعمال کی وجہ سے 5 لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی۔اس رپورٹ کے مطابق سال 2017 کے تخمینے کے مطابق 15 سے 64 سال تک کے تقریباً 2 کروڑ 71 لاکھ افراد نے سال میں ایک بار منشیات کا استعمال ضرور کیا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں مارکیٹ میں موجود منشیات کی تیاری کے طریقہ کار میں تبدیلی آئی ہے یعنی قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ کوکین اور ہیروئن اب کیمیائی طریقے سے بنائی جا رہی ہے جس سے انسانی اموات میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ 53 لاکھ سے زائد افراد ہیروئن یا کوکین کا استعمال کر رہے ہیں۔ 2016 کے مقابلے میں 2017 میں یہ تعداد 56 فیصد زیادہ ہے، 2016 میں ہیروئن کے عادی افراد کا تخمینہ 34 لاکھ لگایا گیا تھا۔

15 سے 64 سال کے افراد میں سے 18 سے 25 سال تک کے نوجوانوں میں رجحان زیادہ ہے جس کی وجوہات میں معلومات اور نتائج کے بارے میں لاعلمی، ذہنی تناؤ، خاندان کی جانب سے نظر انداز ہونا، سماجی رویے، میڈیا کا اثر اور دیگر عوامل شامل ہیں۔

عالمی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر منشیات کی فروخت میں دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سنہ2014 میں اس کی شرح 4.7 فیصد تھی جو جنوری 2019 تک 10.7 فیصد ہو گئی ہے، انٹرنیٹ پر منشیات کی فروخت سب سے زیادہ یورپ میں کی جاتی ہے۔ فن لینڈ، سویڈن، سکاٹ لینڈ، ویلز، برطانیہ، امریکہ اور کولمبیا میں یہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer