نواز شریف کے الزامات ،چیف جسٹس کی صفائیاں


اسلام آباد( 24نیوز ) وزیر اعظم نے چیف جسٹس سے ملاقات کرکے ان کو مشکل میں ڈال دیا ہے،یہ ملاقات جسٹس ثاقب نثار کیلئے گلی کی ہڈی بن گئی ہے جو نہ نگل پارہے ہیں اور نہ ہی اگل۔ نواز شریف فریادی کہنے پر نالاں ہیں تو عمران خان فرماتے ہیں وزیر اعظم نے ہاتھ جوڑے ہونگے، سراج الحق اور خورشید شاہ کا مطالبہ ہے کہ بتایا جائے”کیوں آئے؟“۔
اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ فریادی والے الفاظ چیف جسٹس یا کسی اورکو بھی زیب نہیں دیتے، انہیں یہ کہنا بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ میرے پاس چل کرآئے تھے، یہ انسانیت کی توہین ہے، اور اگر چیف جسٹس نے فریادی والی بات کی تھی تو انہیں اپنی بات پر قائم رہنا چاہئے تھا۔
پرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا بینچ ٹوٹ جانے کے سوال پر نوازشریف نے کہا کہ اس طرح توہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں، ایک بات جانتا ہوں کہ پرویز مشرف کا ٹرائل اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا، حقیقت کی بات کررہا ہوں احتساب سب کا ہوگا اورہرصورت ہوگا، اب وقت وہ نہیں رہا اورحالات بھی وہ نہیں رہے، پرویزمشرف بے شک مفروررہے، ایک دن آئے گا انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھئے: شہباز سپیڈ میں خوار ہوتے عبداللہ!
نوازشریف نے کہا کہ کیس تو1962 سے چل رہا ہے جب میں اسکول میں پڑھتا تھا، اگر کسی جگہ کرپشن یا بد عنوانی سامنے آئی تو وہ پیش کیوں نہیں کررہے، اثاثے اثاثے کر رہے ہیں، کرپشن کا الزام لگایا ہے وہ ثابت کریں، حسن اور حسین نواز کبھی وزیراعظم رہے اور نہ ہی وزرا-مجھے آج تک نیب کا کوئی ایسا ریفرنس بتائیں جس میں کرپشن کا الزام نہ ہو اورپھر میرے والے ریفرنس کو دیکھ لیں اس میں کہاں کرپشن کا الزام ہے، تمام کیس صرف ہمارے فیملی کاروبار کے ارد گرد گھوم رہا ہے۔ نیب کے اسٹار گواہ وا جد ضیا نے تمام الزامات کی خود تردید کردی، سزا دینا مقصود ہے تو میرا نام این ایل سی،ای او بی آئی، رینٹل پاور کیسز میں ڈال کر خواہش پوری کرلیں، میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ اس کیس میں کچھ نہیں، اسی طرح ہی یہ سارا ڈرامہ منطقی انجام تک پہنچ سکتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے:


کل بھی ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کے آج کے بیان پر وزیراعظم مناسب سمجھیں تو وضاحت طلب کر سکتے ہیں، اداروں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئیے، میں نے کبھی کسی کی حدود میں مداخلت نہیں کی، میں تو اس وقت بھی خاموش رہا ، جب جسٹس عظمت سعید نے یہاں تک کہہ دیا کہ نواز شریف کو پتہ ہونا چاہئے اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی کسی کا آلہ کار نہیں ہوتا، جو آلہ کار بناتے ہیں انہیں بھی تو دیکھنا چاہئے وہ کیوں ایسا کرتے ہیں، کسی کا آلہ کار بننے کی رسم اب ختم ہونی چاہیے، جو ادارے کسی کو آلہ کار بناتے ہیں یہ سلسلہ رک جانا چاہیے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کی طرف سے صفائیاں بھی دی جارہی ہیں، چیف جسٹس کی جانب سے وزیراعظم کے لیے فریادی لفظ کے استعمال کرنے کی تردید کردی،ترجمان سپریم کورٹ نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے منسوب بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے لیے فریادی کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ فریادی کا لفظ غلط طور پرچیف جسٹس سے منسوب کیا گیا،ترجمان سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے منسوب لفظ مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن ہے، چیف جسٹس وزیراعظم کا حکومت کے سر براہ کے طور پر احترام کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں مری تعمیرات ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور وکیل لطیف کھوسہ کے درمیان وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات پر مکالمہ ہوا، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے میٹنگ میں کھویا کچھ نہیں بلکہ پایا ہی پایاہے، آنے والے فریاد سنانے آئے تھے ہم نے کچھ نہیں دیا، آپ اس ادارے اوراپنے بڑے بھائی پر اعتماد کریں،کبھی آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی رہنما سید خورشید شاہ بھی پیچھے نہیں رہے فرماتے ہیں ابھی تک رواں ہفتے ہونے والی وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کا اصل مدعا جاننا چاہتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ ملاقات صرف کچرے، پانی اور گیس سے متعلق نہیں ہوگی،دوسری جانب خورشید شاہ نے وزیراعظم سے چیف جسٹس کے ساتھ ہوئی ملاقات کی تفصیل جاری کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔
واضح رہے کہ منگل 27 مارچ کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے درمیان ہونے والی تقریباً 2 گھنٹے طویل ون آن ون ملاقات نے سب کو حیران کردیا تھا۔
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق اسے ملاقات کو این آر او سے تشبیہہ دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ملاقات میں کیا باتیں ہوئی ہیں،وہ ملتان،ڈی جی خان میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے،ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی این آر او قبول ہے اور نہ اسے برداشت کرینگے۔