واٹر کمیشن کی سماعت، 2 سو سے زائد جعلی بھرتیوں کا انکشاف

واٹر کمیشن کی سماعت، 2 سو سے زائد جعلی بھرتیوں کا انکشاف


 کراچی(24نیوز) واٹر کمیشن کی سماعت کے دوران کراچی کے ضلع وسطی میں صفائی کے لئے 2 سو سے زائد جعلی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ واٹر کمیشن کا کراچی کو کچرے سے پاک کرنے کا حکم۔ ضلع شرقی اور جنوبی کے ٹھیکیداروں کو رقم جاری کرنے سے بھی روک دیا گیا۔

 تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ مین واٹر کمیشن کی سماعت ہوئی جس میں واٹر کمیشن کہا ہے کہ کراچی شہر میں صفائی کو ممکن بنایا جائے ورنہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

واٹر کمیشن نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی صفائی کے کام کی نگرانی کا حکم دے دیا۔ دوران سماعت ضلع وسطی کے چئرمین ریحان ہاشمی نے انکشاف کیا کہ ضلع میں صفائی کے لئے مسلم کمیونٹی سے لوگ بھرتی کئے گئے ہیں جو کام نہیں کرتے۔ جبکہ خاکروب کے لئے صرف غیر مسلم بھرتی کئے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں۔نیپرا نے بجلی صارفین کو بڑی خوشخبری دے دی
 
ریحان ہاشمی نے کہا کہ ہمارے پاس کچرا اٹھانے کی مشینری نہیں ہے۔ دوران سماعت چینی کمپنی کے سی ای او کا کہنا تھا کہ کئی جگہوں سے ملازمین کچرا نہیں اٹھاتے ان کے خلاف شکایت کی گئی تو یونین اڑے آجاتی ہے۔ کمیشن کے سربراہ نے متعلقہ ایس ایس پیز کو ہدایت کی کہ صفائی کے کام میں جو اڑے ائے ان کے خلاف مقدمات درج کرکے کاروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں۔وزیراعظم کا دورہ سرگودھا شہریوں کوبھاری پڑ گیا
 
 سیکرٹری بلدیات نے دوران سماعت انکشاف کیا کہ 13000 ملازمین بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی گئی جس کے باعث صفائی کا کام متاثر ہو رہا ہے۔

  کمیشن نے سالڈ ویسٹ کے سی ای او سے گاڑیوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کمیشن نے مزید کاروائی 5 اپریل تک ملتوی کردی۔